کوہاٹ مسجد خودکش حملہ، سلامتی کونسل کی شدید مذمت، ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور

کوہاٹ مسجد خودکش حملہ، سلامتی کونسل کی شدید مذمت، ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مسجد پر ہونے والے خودکش دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ میں مسجد پر کیا گیا خودکش حملہ انتہائی سنگین اور بزدلانہ دہشتگرد کارروائی تھی۔بیان کے مطابق حملے میں کم از کم 24 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں 7 عام شہری اور 17 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شامل تھے، جبکہ کم از کم 88 افراد زخمی ہوئے۔ بیان میں بتایا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک عناصر سمیت ایک دہشتگرد گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔سلامتی کونسل کے ارکان نے دہشتگرد حملے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ ارکان نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بات کی توثیق کی کہ دہشتگردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان نے زور دیا کہ اس قابل مذمت دہشتگرد کارروائی کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سہولت کاروں کو جواب دہ بنایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔بیان میں تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اس معاملے میں حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں تاکہ دہشتگردی کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

سلامتی کونسل نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دہشتگردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابل جواز ہے، خواہ اس کا مقصد یا محرک کچھ بھی ہو۔ بیان کے مطابق دہشتگردی کی کارروائی کہیں بھی، کسی بھی وقت اور کسی کی جانب سے انجام دی جائے، اسے قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔سلامتی کونسل نے تمام ریاستوں کی ذمہ داری پر بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے دہشتگردی سے پیدا ہونے والے عالمی امن و سلامتی کے خطرات کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کریں۔بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے دوران انسانی حقوق، پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ بیان کوہاٹ مسجد حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون کے عزم کی تجدید کے طور پر سامنے آیا ہے۔