بھارت کی ریاست منی پور میں جاری نسلی کشیدگی کے دوران تازہ پرتشدد واقعات سامنے آئے ہیں۔
حالیہ واقعات میں کوکی برادری سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کی ہلاکت اور مکانات کو آگ لگانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ستمبر میں منی پور کے تامنگلونگ ضلع میں کوکی آبادیوں پر ہونے والے حملوں میں متعدد افراد بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعات میں طویل عرصے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ بعض علاقوں میں گھروں اور دیگر املاک کو نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ تازہ واقعات کے بعد مقامی سطح پر خوف و ہراس اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔منی پور میں میتی اور کوکی-زو برادریوں کے درمیان نسلی تنازع مئی 2023 سے جاری ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجم نے 3 ستمبر 2026 کو اسمبلی میں بتایا کہ 31 اگست 2026 تک کم از کم 306 افراد ہلاک اور 49 افراد لاپتہ ہوچکے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق منی پور میں جاری تشدد کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ مختلف ادوار میں گھروں، کاروباری مراکز اور دیہات کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
تنظیم نے تازہ تشدد کے بعد حکام سے شہریوں کے تحفظ اور مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔حالیہ دنوں میں بھی منی پور میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 13 ستمبر کو تامنگلونگ میں کوکی بستیوں پر دو الگ حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 15 ستمبر کو اسی ضلع میں کوکی برادری کی دو خواتین کو فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی۔منی پور میں جاری صورتحال کے باعث سکیورٹی، بے گھر افراد کی واپسی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے معاملات بدستور اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔