بدقسمتی سے ہر آنے والے سال میں موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوگا، عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے
جموں و کشمیر اور پنجاب کے دریائوں میں اس بار پانی زیادہ ہے، بھارتی ڈیمز کی جانب سے کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا:سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی ) چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے خبردار کیا ہے پاکستان میں گلیشیئرز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت منعقدہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس کو مون سون اور موسمیاتی خطرات پر بریفنگ کے دوران کہی ۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان ہر آنے والے سال میں موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوگا، عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ رواں سال پاکستان میں مون سون دو ہفتے پہلے شروع ہوا جبکہ آنے والے برسوں میں بارشوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، پاکستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں لیکن یہ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے مزید کہا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے فنڈ دینے والے ممالک خود موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کا شکار ہیں، ہمارے پاس اپنی استعداد اور ڈیٹا یو این سے زیادہ بہتر ہے اور این ڈی ایم اے کی پیشگوئی 98 فیصد درست ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے دریائوں میں اس بار پانی زیادہ ہے جبکہ بھارتی ڈیمز کی جانب سے کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ قادر آباد، سدھنائی اور جھنگ میں بند توڑ کر پانی کے ریلوں کا زور کم کیا گیا جبکہ گڈو بیراج پر 5 لاکھ کا ریلا جمع ہونے کا امکان ہے۔