راوی، چناب ‘ ستلج میں بڑے سیلاب کا خدشہ، ڈیڑھ لاکھ افراد کی نقل مکانی آئندہ سال موسمیاتی تبدیلی کی شدت 22 فیصد بڑھ سکتی ہے:چیئرمین این ڈی ایم اے

بھارت نے دریائے راوی پر قائم ڈیموں کے گیٹ کھول دیئے‘بہاولپور اور بہاولنگر کے کئی دیہات زیر آب آگئے، فصلیں بہہ گئیں ، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع 
 خوراک، ادویات اور مویشیوں کے چارے کی شدید قلت پیدا ہوگئی ، مون سون کا  ایک اور سپیل آنیوالاہے، 2 سے 11 ستمبر تک رہے گا:چیئرمین این ڈی ایم اے

 لاہور‘اسلام آباد(یواین پی‘آئی این پی) پی ڈی ایم اے نے چناب، راوی اور ستلج میں آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کردیا، راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں بھی شہری سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائی علاقوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر سے 89 ہزار868 افراد جبکہ قصور سے 14 ہزار140 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اوکاڑہ سے 2 ہزار سے زائد افراد جبکہ بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن سے بھی سینکڑوں افراد کا انخلا کیا جا چکا ہے۔سیلاب کا الرٹ جاری ہونے پر تقریبا 40 ہزار افراد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے صوبے میں متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کیا گیا ہے ان میں لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔بھارتی آبی دہشتگردی سے دریائے ستلج،   راوی اور چناب  میں   پانی کے بہا ئومیں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ، پانی  کے  ریلوں نے تباہی مچانا شروع کردی ، بہاولپور اور بہاولنگر کے مقام پرکئی دیہات زیر آب آگئے،کھڑی فصلیں بہہ گئیں اور کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا،سینکڑوں افراد کو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا  ۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے  کہا ہے کہ  مون سون کا 8 واں اسپیل 2 سے 11 ستمبر تک رہے گا  ملک  میں  ابھی تک بارشوں میں 800 اموات اور 1100 افراد زخمی ہوئے، بھارت نے پانی کے بہا ئوکی اب تک جو رپورٹ دیں وہ سب درست تھیں۔انہوں نے یہ بات ملک میں مون سون سے متعلق پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی )کو بریفنگ  میں بتائی ۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین   جنید اکبر خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میںملک میں مون سون سے متعلق این ڈی ایم اے کی طرف سے  بریفنگ دی گئی ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا   پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں، اگلے سال سیلاب کی شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے