کرپٹو مارکیٹ میں کمی کا سلسلہ، بٹ کوائن ایک ہفتے میں 13 فیصد گھٹ گیا

کرپٹو مارکیٹ میں کمی کا سلسلہ، بٹ کوائن ایک ہفتے میں 13 فیصد گھٹ گیا

بٹ کوائن کی قیمت 7 ماہ کے قریب عرصے میں پہلی بار 92 ہزار ڈالر سے نیچے آگئی ہے، جس سے مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔

 پیر کی شام تک، یہ کرپٹو کرنسی 91,588 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی، جو کہ ایک ہی دن میں 3.3 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران، ٹریڈنگ کا حجم بھی دوگنا سے زیادہ ہو گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کا اظہار ہوتا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران، بٹ کوائن کی قدریں تقریباً 13 فیصد تک کم ہو چکی ہیں، اور 6 اکتوبر سے اب تک اس میں 26 فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی ہے، جب اس نے 126 ہزار ڈالر سے زیادہ کی بلند ترین سطح حاصل کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 50 ہفتوں کی موونگ ایوریج سے نیچے جانا اور 4 مئی کے بعد پہلی بار 100 ہزار ڈالر سے کم ہفتہ وار اختتامی قیمت نے مارکیٹ میں احتیاطی رجحان کو تقویت دی ہے۔مزید برآں، 4 سالہ کرپٹو سائیکل کے اختتام کی چہ مگوئیاں بھی مارکیٹ کے مندی کے تاثر کو بڑھا رہی ہیں۔

 یہ گراوٹ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی نقصان کا شکار ہیں۔ کوائن ڈیسک کے مطابق، وسیع کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی قدر میں ایک ہفتے کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فروخت طویل مدتی ہولڈرز کی جانب سے منافع سمیٹنے، ادارہ جاتی سرمایہ نکالنے، معاشی غیر یقینی صورت حال اور لیوریجڈ لانگز کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ طویل عرصے کی استحکام کے بعد مارکیٹ نے عارضی طور پر نیچے جانے کا رجحان اپنایا ہے۔تجزیہ کار اس کمی کی ایک اور وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس ماہ شرح سود میں کمی کی کم ہوتی توقعات کو قرار دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، اہم معاشی اعداد و شمار، خاص طور پر اکتوبر کی مہنگائی، ممکن ہے کہ اب تک جاری نہ ہو سکیں کیونکہ گزشتہ ہفتے ختم ہونے والے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن نے ان میں تاخیر پیدا کی ہے۔