واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا اقدام کرتے ہوئے "کرپٹو اسٹریٹجک ریزرو" کے قیام کا اعلان کر دیا، جس میں پانچ بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
کرپٹو ریزرو میں شامل کرنسیز
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنوری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی کرپٹو ریزرو میں درج ذیل کرنسیوں کو شامل کیا گیا ہے:
بٹ کوائن (BTC)
ایتھریئم (ETH)
ایکس آر پی (XRP)
سولانا (SOL)
کارڈانو (ADA)
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ریزرو "امریکہ کو کرپٹو کا عالمی دارالحکومت بنانے میں مدد دے گا۔"
مارکیٹ میں زبردست اضافہ
ٹرمپ کے اعلان کے فوراً بعد کرپٹو مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں:بٹ کوائن (BTC) کی قیمت 8% اضافے کے بعد 90,828 ڈالر تک پہنچ گئی۔ایتھریئم (ETH) 8.3% بڑھ کر 2,409 ڈالر پر پہنچ گیا۔دیگر کرنسیز XRP، SOL اور ADA میں بھی 10% سے 62% تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کرپٹو دوست موقف
یہ اعلان کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے کرپٹو کرنسی کے فروغ کے لیے جارحانہ پالیسی اختیار کر لی ہے۔ اس کے برعکس، سابقہ بائیڈن انتظامیہ کرپٹو پر سخت پابندیاں عائد کر رہی تھی۔ٹرمپ انتظامیہ نے مزید اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جن میں:"وائٹ ہاؤس کرپٹو سمٹ" کا انعقاد، جس میں کرپٹو انڈسٹری کے بڑے نام شرکت کریں گے۔امریکی حکومت کا کرپٹو ریزرو کو "ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ" کے ذریعے منظم کرنے پر غور۔
ریزرور کیسے کام کرے گا؟
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ کرپٹو اسٹریٹجک ریزرو کی عملی شکل کیا ہوگی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت ضبط شدہ کرپٹو اثاثوں کو اس میں شامل کر سکتی ہے۔یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ میں امریکہ کی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات عالمی کرپٹو انڈسٹری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔