عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امید کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔

 رائٹرز کے مطابق سرمایہ کار رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ممکنہ سفارتی رابطوں اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.16 ڈالر یا 2.08 فیصد کمی کے بعد 101.71 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 2.15 ڈالر یا 2.14 فیصد کمی کے بعد 98.15 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ دونوں بینچ مارک کی قیمتیں 10 ستمبر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی ایک بڑی وجہ یہ توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رواں ہفتے سفارتی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ KCM Trade کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امید پر تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرے کا کچھ پریمیم کم ہوا ہے۔دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں تیل کی تنصیبات اور عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات کے راستوں میں تبدیلی کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی تیل کی برآمدات ستمبر میں یومیہ 4 ملین بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ اگست میں یہ تقریباً 2.4 ملین بیرل یومیہ تک گر گئی تھیں۔اس دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بھی معمول سے نمایاں کم ہے، تاہم مشرق وسطیٰ سے تیل کی مجموعی ترسیل جاری ہے۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران خطے سے تیل کی مجموعی ترسیل اوسطاً 17.1 ملین بیرل یومیہ رہی۔مارکیٹ میں اب سرمایہ کار سفارتی رابطوں کی پیش رفت، سعودی تیل کی برآمدات، حوثیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، کیونکہ ان عوامل میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے عالمی تیل کی قیمتوں پر دوبارہ نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔