امن دشمن بھارت کی ’’ ہائبرڈ وار‘‘

تحریر:محمد شاہ دوتانی

آج کل ہائبرڈ وار اپنے عروج پر ہے، پروپیگنڈے کا ہتھیار انتہائی خطرناک ہوگیا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈس انفارمیشن کو بھی جنم دیا ہے۔آج دہشت گرد گروہوں، فرقہ پرست گروہوں، جرائم پیشہ گروہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ریاستی نظام تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ان دہشت گرد، فرقہ پرست، جرائم پیشہ تنظیموں، گروہوں اور گروپوں نے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے پروپیگنڈا گروپ بنا رکھے ہیں، غیرقانونی سرمائے کی نقل و حرکت بھی انہی ذرائع سے کی جاتی ہے، یوں دہشت گردی ایک کاروباری بن گئی ہے ، مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی آپسی رابطہ کاری بہت آسان ہوگئی ہے۔پاکستان میں سوشل میڈیا کے مختلف ٹولز کے صارفین کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ بلیک معیشت نے ان سوشل میڈیا ٹولز کو اپنے حق میں استعمال کرنے لیے بے پناہ سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ وطن عزیز میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر کئی لابیز اس مشن پر لگا دی گئی ہیں۔کیا یہ پہلو نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت ، تنظیم کے لوگ مختلف سوشل میڈیا اکائونٹس سے پاکستان مخالف بیانیے کی وکالت میں مصروف ہیںیہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا اور بات ہے، مگر ملک کی فوج کی وحدت، ڈسپلن اور انٹیگریٹی کو نقصان پہنچانا، فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرنا بالکل الگ بات ہے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں مبہم یا متنازعہ پروپیگنڈا کرنا ، وفاقی اکائیوں کی تاریخ، ثقافت کے بارے میں غلط بیانی کرنا اور دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں افواہیں پھیلانا کسی طرح قابل معافی نہیں ہے۔ ہم اپنے ارد گرد ممالک میں نظر دوڑائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر جو کچھ کہا جارہا ہے، ان ممالک میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پاک فوج کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حالانکہ پاک فوج کے جوان اور آفیسرز اپنے خون سے پاکستان کی آبیاری کر رہے ہیں۔ افواج پاکستان کی قربانیوں کے باوجود سوشل میڈیا پر ایک بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس شرانگیز مہم کے پیچھے ذاتی ، گروہی اور سیاسی مقاصد ہیں، یہ گروہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ریاست کو داو?پر لگانے سے بھی گریز نہیں کررہے۔ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار میں دشمن کے سامنے آئے بغیر کسی ملک کی سا لمیت اور خود مختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ اب تک کی سب سے خطر ناک جنریشن آف وار ہے کیونکہ جدید دور میں روایتی محاذ کے بجائے دیگر بہت سے محاذوں پر لڑائیاں لڑی جارہی ہیں جن میں سفارتی، معاشی، نظریاتی اور سائبر محاذ بھی شامل ہیں جن کا مقصد کسی بھی ملک کے کونے کونے تک رسائی ہے۔ففتھ جنریشن وار سچ اور وہم، حقیقت اور مبالغے کے درمیان کھیلی جانے والی جنگ ہے۔ یہ کلچرل اور اخلاقی پہلوو ¿ں پر کھیلی جانے والی وہ خطرناک جنگ ہے جو کسی ملک کی فضا میں بگاڑ پیدا کرکے اس ملک کوبین الاقوامی سطح پر بد نام کرتی ہے جس سے ملک سفارتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ہو جاتی ہے جس سے ملک معاشی بدحالی کا اس قدر شکار ہو جاتا ہے کہ وہ ایک روایتی جنگ لڑنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بااثر سیاسی لابی اپنا زہر نوجوان نسل کے دل و دماغ میں کافی حد تک اتار چکی ہے۔ ملک کے مختلف فورمز پر نہایت ہوشیاری اور مکاری سے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جارہا ہے ، ریاست کے محافظ ادارے اور اس کے افسروں کے بارے میں بلاثبوت متنازعہ گفتگو کی جارہی ہے۔ہمارے ہیروز کو ولن بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ تاریخ اور ذوقِ مطالعہ سے نابلد نوجوان ان کے پروپیگنڈا کے زیر اثر آجاتے ہیں۔ وقت آگیا ہے ایسے اندرونی گروہوں اور جماعتوں کے ساتھ سختی سے نبٹا جائے ، ان کے ہینڈلرز، فنانسر اور سہولت کاروں کو ریاستی سسٹم سے باہر نکال کر کے، ان سے پورا حساب لیا جائے۔افواج پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفادات ایک ہیں۔ جب بھی اس پاک دھرتی پر کوئی مشکل آئے تو قوم نہ صرف افواج پاکستان پر اعتماد کرتی ہے بلکہ اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ قوم کا فوج پر یہی اعتماد اور محبت فوج کا مورال بلند کرتی ہے۔ دنیا میں جدید اور بہترین اسلحے سے لیس کئی افواج موجود ہیں لیکن پاکستانی فوج وسائل کی کمی کے باوجود دنیا کی بہترین افواج میں سے ہے۔
پیارا وطن پاکستان سانحہ نائن الیون کے بعد سے بدترین دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اب تک 80ہزار سے زائد بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے شہید اہلکار اور افسران بھی شامل ہیں، پاکستان نے تن تنہا دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کیا اور اس پر قابو پایا۔ بہادر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے عفریت کو کنٹرول کیا۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی گئی۔ اس کامیابی پر دنیا بھر کی جانب سے پاکستانی کوششوں کو سراہا گیا، لیکن بھارت اس پر بھی روایتی حسد اور جلن کا شکار دکھائی دیا۔ پاکستان ہمیشہ انتہاپسندی کے خلاف رہا ہے۔ بھارت پچھلے 77سال سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ہر بار اسے ہماری بہادر افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔ اب پچھلے کافی سال سیبھارت نے کئی محاذوں پر پاکستان کے خلاف ’’ہائبرڈ وار‘‘ چھیڑ رکھی ہے، جس میں ڈس انفارمیشن مہم، دہشت گردی کو فروغ دینا اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو داغ دار کرنے کی منظم کوششیں شامل ہیں۔پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت کی ہائبرڈ حکمت عملی میں غلط معلومات اور جعلی خبروں کا پھیلا? بڑے پیمانے پر شامل ہیں، بھارت غلط معلومات اوربے بنیاد خبروں کے ذریعے پاکستان کو دہشت گرد گروپوں کا حامی قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت غلط معلومات پھیلانے کی کوششوں میں بارہا بے نقاب ہوا ہے، متعدد بین الاقوامی تحقیقات میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف چلائے جانے والے کئی جعلی نیوز نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا ہے۔ بھارت غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کو دہشت گردی کا حامی قرار دینے کی ایک بڑی مہم چلا رہا ہے۔نریندر مودی حکومت کے ہائبرڈ جنگی حربے علاقی استحکام کے لیے شدید خطرے کا سبب ہیں۔ تاہم پاکستان ،بھارت کے ہائبرڈ جنگی حربوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ بھارت کے یہ حربے ماضی کی طرح آگے بھی ناکام ہوں گے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا ہرگز حامی نہیں، بلکہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے روزانہ ڈھیروں آپریشنز ہورہے ہیں، جن میں بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور بہت سے علاقوں کو کلیئر کرایا جاچکا ہے۔ ہماری فورسز دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔