دہشت گردوں کا امن پرپھر وار

کاشف بٹ
وانا کا حملہ اور پھر اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے خودکش دھماکہ — یہ دو واقعات محض خبریں نہیں۔ یہ حادثات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دہشت گردی کا مرض ابھی ختم نہیں ہوا؛ وہ صرف روپ بدل کر، خاموشی کی آڑ میں واپس آیا ہے۔جب فوجی آپریشنز، خفیہ اداروں کی کارگزاری اور عوامی امنگوں نے کچھ عرصے کے لیے دہشت گردی کے منہ پر طمانچہ مارا تھا، تو روشن خیالی ہوئی کہ شاید ہم نے اس لمبی جنگ میں کامیابی حاصل کر لی۔ مگر حقیقی فتح وہ ہے جو خیالات، نظریات اور سماجی جڑوں تک جائے؛ یہ جیت صرف گولی اور آپریشن سے نہیں ملتی۔ جو حملے حالیہ ہیں وہ بتاتے ہیں کہ دشمن نے صبر کیا، دوبارہ منصوبہ بندی کی اور خامیوں کی نشاندہی کر دی۔
یہ خامیاں کہاں ہیں؟
سرحدی نگرانی کے کمزور پہلو، داخلی خفیہ معلومات کے تبادلے میں رکاوٹیں، معاشرتی دوراہوں پر انتہا پسندی کو پنپنے دینا، اور وہ سماجی اقتصادی حالات جو نوجوانوں کو آسان راستے کی طرف دھکیل دیتے ہیں — یہ سب مل کر ایک نہ ختم ہونے والا خطرہ کھڑا کرتے ہیں۔
ہمارا ردعمل صرف جذباتی بیانات اور رسمی انکوائریوں تک محدود ہو تو یہی سانحات بار بار دہرائے جائیں گے۔ سب سے پہلے تو شفاف اور فوری اصلاحِ سکیورٹی  سرحدی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی، قابل تربیت اسٹاف اور واضح معلوماتی لنکس کے ذریعے مضبوط کیا جائے اور انٹیلی جنس کی کارروائیوں میں بروقت معلوماتی شیئرنگ لازمی قرار دیا جائے۔ نظریاتی صفائی کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے لیے مدارس اور تعلیمی اداروں میں تشدد و نفرت آموز بیانیے کی روک تھام، خطبہ بازی کی مانیٹرنگ اور متبادل اعتدال پسند مذہبی بیانیے کو فروغ دیا جائے۔ معاشرے کو یہ باور کرایا جائے کہ مذہب کسی انسانی جان کو لینے کی اجازت نہیں دیتا۔اس کے علاوہ عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول سوسائٹی کے مابین کھلی اور مربوط حکمتِ عملی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہر ادارہ اپنی حد میں محکم ہو تو مجموعی دفاع مضبوط ہوگا۔ قربانی دینے والے اہلِ وطن کے خون کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی موت رائگاں نہ جائے — ان کی شہادت ہماری اجتماعی بیداری بنے۔جانتے ہیں کہ دہشت گردی کسی ایک علاقے یا ایک قوم کا معاملہ نہیں؛ یہ انسانیت کے خلاف سازش ہے۔ ہمیں دوبارہ وہ حوصلہ دکھانا ہوگا جو کبھی ہمیں عظیم امتحانوں میں فتح دلاتا تھا۔ قوتِ ارادی، مربوط پالیسی اور عوامی تعاون — یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے یہ نئی لہر لوٹ جائے گی اور امن پھر سے واپس آئے گا۔
آخر میں ایک سچ یاد رکھیں: خوف وقتی ہو سکتا ہے، مگر اگر ہم نے اتحاد اور منصوبہ بندی کو دائمی نہ بنایا تو یہی خوف ہماری روزمرہ حقیقت بن جائے گا۔ اب وقت ہے جاگنے کا — محض کلمات نہیں، کام چاہیے۔