ڈاکٹر جاوید اقبال
خاموش قاتل سموگ نے لاہور ، ملتان اور پنجاب کے کء شہروں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں فضاء آلودگی سے ایک کروڑ دس لاکھ بچوں کی زندگی کو خطرہ ہے۔تشویش ناک امر یہ ہے ، بدبخت سموگ نے لاہوریوں کی عمر 5 سال گھٹا دی ہے۔ہر سال سموگ ایک لاکھ پنتیس ہزار افراد کو نگل رہی ہے۔نامراد سموگ اسقاط حمل اور بیس ہزار قبل از وقت بچے پیدا ہونے کی بڑی وجہ ، دمہ ، پھیپھڑوں کے سکڑنے سمیت پھیپھڑوں و جلد کے کینسر ، دل و دماغ کے امراض کا موجب بن رہی ہے۔ذلیل سموگ کی بنا پر اسپتالوں کے شعبہ حادثات میں بلاناغہ آنکھ ، سانس ، دل و دماغی امراض کے مریض لینڈ کر رہے ہیں۔
آنکھیں بھی اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔اپنے ہاں ہر شخص ائیر کوالٹی انڈکس بگڑنے کو خرابی کی بڑی وجہ قرار دے رہا ہے جو پانچ سو سے اوپر انتہائی مہلک ہے لیکن کوء بھی سموگ میں موجود ذرات کے سائز کا سرے سے ذکر ہی نہیں کر رہا ہے۔جس کی بدولت تباہی کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔اگر ہم میڈیکل کی زبان میں بات کریں۔ہمارا ناک ہوا کو صاف ، گرم اور گیلا کر کے پھیپھڑوں میں پہنچاتا ہے۔ہمارے پھیپھڑوں کی ساخت انگور کے گھچھوں کی طرح ہے۔یہ گھچھے 5. مائکران تک کے ذرے کو صاف کرنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن سموگ کے ذرات کا سائز 2.5 مائکران تک ہے جو 28.9 ٹائم زیادہ ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مائکرولیول کے یہ ذرات ہمارے پھیپھڑوں کا کس طرح ستیاناس کر رہے ہیں۔ہم روزانہ دو ہزار گیلن ہوا اپنے پھیپھڑوں میں انڈیلتے ہیں یعنی ان زہریلے ذرات کے ذریعے بلاناغہ وولاٹائل آرگینک کمپاؤنڈ ، سلفر ڈاء آکسائیڈ ، کاربن ، ھائیڈروجن ، کلورائڈ اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔یہاں سوال ابھرتا ہے۔آخر یہ مہلک ذرات آتے کہاں سے ہیں ؟خاکسار کو لاہور یونیورسٹی کے پروفیسر آف پلمونولوجی پروفیسر عرفان ملک نے ایک ملاقات میں بتایا۔شہر لاہور میں چلنے والے رجسٹرڈ وہیکلز جن میں بسیں ، ٹرک ، ڈبل کیبن ، ڈیلوری وین ، ٹریکٹر ، رکشہ ، موٹر کار و موٹرسائیکل جن کی تعداد ساڑھے تہتر لاکھ سے زائد ہے۔یہ وہیکلز ان بدبودار ذرارت کو پیدا کرنے کا سب سے بڑا عنصر ہے۔ان وہیکلز کی بدولت لاہور عالمی فضاء آلودگی میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ابھی اس تعداد میں بنا فلٹر کے دندانے والے چنگ چی اور مکڑا نما لوڈر شامل نہیں ہیں۔ان وہیکلز کے طفیل کیمیکل سے اٹا ہوا دھواں اندر جا کر بار بار سوزش پیدا کر کے پھیپھڑوں کو ہمیشہ کے لئے ناکارہ کر رہا ہے۔میں نے ڈاکٹر عرفان سے عرض کی۔پلیز اس ٹاکسک سموگ سے جان خلاصی کا فارمولا بھی بیان کر دیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔تمام وہیکلز کے ٹائروں کو وقت پر تبدیل کیا جائے۔شہر لاہور میں 51 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلوں کو ای بائیک پر شفٹ کر دیں۔دنیا موٹرسائیکل کی یورو 5 انجن ٹیکنالوجی سے اوپر جا چکی ہے۔ہم ابھی تک یورو 2 انجن ٹیکنالوجی پر پھر رہے ہیں۔پنجاب حکومت اس سلسلہ میں لاہوریوں کو سبسڈء دے۔وہیکلز کو ھائبرڈ یا الیکٹرک وہیکلز پر ٹرانسفر کرے۔سکول ، کالجز یونیورسٹیوں اور دفاتر میں آنے جانے کے لئے بیرون ملک کی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کو سپر سے سپر کیا جائے تاکہ شہری گھر سے کاروں اور موٹرسائیکلوں کو نکالیں ہی ناں اور فضا آلودہ ہونے سے بچی رہے۔راقم نے دوران گفتگو ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ پنجاب حکومت شہر لاہور میں پہلے ہی الیکٹرک بسیں چلانے کا عندیہ دے چکی ہے۔یہ منصوبہ واقعی قابل تعریف ہے۔ہر دل عزیز ، دبنگ سیکریٹری ٹرانسپورٹ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی ماحول کو بہتر کرنے میں کوء کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ایسے ویڑنری قابل آفسران کی ہمیں ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے ہم محنت کرنے والوں کی محنت پر پانی پھیرنے میں کوء کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ہم ہر شے کو حکومت سے جوڑ کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ہم نجانے کیوں پرہیز علاج سے بہتر کے نسخہ کیمیاء کو اپنی جیب میں نہیں رکھ رہے ہیں ؟ہم پاکستانی دنیا جہاں کی ہر جنگلی بوٹیوں کے قہوے پی لیں گے مگر ماسک نہیں لگائیں گے۔اسی طرح شجر کاری کرنے کے بجائے درختوں کا قتل عام کر کے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی بھرمار کرتے ہوئے سارا سرمایہ اپنے اصلی گھروں امریکہ ، یورپ ، یوکے ، دبء شفٹ کر دیں گے حالانکہ کسی بھی ملک کو فضائی آلودگی سے بچانے کے لئے 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بیحد ضروری ہے۔اپنے دیس کے صرف 3.2 فیصد حصے پر جنگلات ہیں۔اس اندونہاک خبر پر پلانٹ لور ڈاکٹر عرفان نے افسوس کا اظہار کیا۔ڈاکٹر صاحب نے سموگ سے بچنے کے لئے مزید مشورے دئیے کہ اس موسم میں پانی کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ہاتھوں ، آنکھوں کو دھویا جائے۔ناک صاف کیا جائے۔آنکھوں کو سموگ سے بچانے کے لئے سن گلاسز کا استعمال کیا جائے۔ خاکسار نے ان احتیاطی تدابیر میں اضافہ کرتے ہوئے مشورہ دیا۔ فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف اطلاع دینے والے کے نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے انعام و اکرام سے نوازا جائے اور پتنگ بازی کا قلعہ قمع کرنے کی طرح ہماری صحت کے ان دشمن کسانوں کو لائن حاضر کرنے کے لئے متعلقہ ایس ایچ او کو فری ھینڈ دیا جائے۔اس میں کسی بھی قسم کا دباؤ برداشت نہ کیا جائے۔کوتاہی پر متعقلہ ایس ایچ او کی جواب طلبی کو پرسنل فائل میں لگایا جائے۔اسے بھی معلوم ہو۔صحت ہو گی تو پروموشن ہو گی۔
ڈاکٹر عرفان ملک نے ایک نء بات بھی کی۔چائنا کی طرح سموگ کو قابو کرنے کے لئے بھارتی سرحد اور شہروں کے اندر سموگ ٹاور لگائے جائیں۔کول پاور پلانٹس کو ساحلی علاقوں کی زینت بنایا جائے۔اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا تو بڑا چرچہ ہے ذرا ٹنوں کے حساب سے دھواں فضاء میں چھوڑنے والے چاولوں کے شیلرز کی بھی خبر لی جائے۔ڈاکٹر صاحب کے بقول راوی ٹول پلازہ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں اور ان سے نکلنے والا مضر صحت دھویں بارے کسی کو بھی فکر نہیں ہے۔خاکسار نے اس سلسلہ میں حکومت کو تجویز دی تھی کہ موٹروے پر ای ٹیگ سٹیکر اور بنا بیلنس کے واحد گاڑی کو بھی انٹر نہ ہونے دیا جائے تاکہ گاڑیوں کی قطار نہ لگے اور نہ دھویں کا اخراج ہو اور بابو صابو لاہور پولیس ناکے پر ٹریفک جام سے بچنے کے لئے ایک لین کے بجائے تین لین سے گاڑیاں چیکنگ کے بعد گزاری جائیں۔ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں کونسی راکٹ سائنس ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے۔چاپلوس حضرات ارباب اختیار کو یہ نہیں بتاتے ہیں کہ آلودہ فضاء سے سورج کی روشنی زمین پر نہ پہنچنے کی وجہ سے سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار کم ہو گی اور بے دردی سے پانی کا ضیاع رہی سہی کسر پوری کر دے گا۔اس میں کوئی شک نہیں۔ہمیں آنے والے سالوں میں پانی اور خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔خیر سے ہمارے بچے اور خواتین پہلے ہی جسمانی کمزوری اور خون کی کمی کا شکار ہیں۔صد افسوس!ہمیں کوئی جتنا مرضی سمجھا لے۔
ہم اپنی انا پسندی ، خودپرستی اور ضد پر قائم رہیں گے۔میں تو یہ کہوں گا۔ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ہم خود اپنے دشمن آپ ہیں۔