چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
لیجئے حکومت نے IMF کی ایک اور شرط کو سرخم تسلیم کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کی پالیسی ترک کردی ہے کیونکہ آئی ایم ایف اجناس کی قیمتوں کے تعین میں حکومتی کردار کی مخالف ے اور اس نے حکومت کو گندم گنے کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے روکا تھا اسی لیے گندم کی بوائی مکمل ہونے کے بعد پہلی بار امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ آئی ایم ایف زرعی اجناس کے تعین کیلئے فری مارکیٹ کا خواہاں ہے
کسان تنظیمیں جن میں جماعت اسلامی کسان بورڈ پاکستان ،کسان اتحاد تسلسل کے ساتھ کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہیں لیکن حکومت اور سرکاری ادارے کین کمشنر اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہے گندم کے کاشتکار لٹ چکے اب گنے کے کاشتکار گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر نوحہ کناں ہیں زرعی ملک میں زراعت شعبے کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے کسان دہائیاں دے رہے ہیں اسمبلیوں میں بھی اکثریت دیہی علاقوں اور زراعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلیز کی ہیں لیکن وہ بھی بے بنے بیٹھے ہیں یہ ملک زراعت اور دیہی عوام کی بدقسمتی ہے کہ کسان ابھی بھی انہی نام نہاد اراکین اسمبلیز ان کی جماعتوں اور قیادت کو ہی اپنا مسیحا سمجھے ہوئے ہیں صرف جماعت اسلامی واحد سیاسی دینی پارٹی ہے جو کسانوں کے ساتھ ناانصافی ان کو گندم کی فصل کی مقرر کردہ قیمت نہ ملنے پر احتجاجی مارچ کیے لیکن پنجاب کے دیہں عوام اس احتجاج میں شریک نہیں ہوئے اس پر کسانوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا
کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین نے گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب اور متعلقہ سرکاری اداروں کو نوٹس جاری کیے ہوئے ہیں مجال ہے کہ سرکاری ادارے عدالت عالیہ کو کسانوں کو ریلیف اورانصاف پر مبنی موقف پیش کریں وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں نہ شوگر ملز میں کرشنگ سیزن بروقت شروع ہوسکا ہے اور نہ ہی گنے کے کاشتکاروں کو گنے کی صحیح قیمت مل پا رہی ہے حقیقت میں دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی بدترین حکومت عوام پر مسلط ہے جس کی ناقص اور کسان زرعی زری پالیسیوں سے زراعت صنعت معیشت تباہ حال ہو چکی ہے
یہ کسان کارڈ،لائیو سٹاک کارڈ،ذیادہ گندم اگانے والے کسانوں کو ایک ہزار فری ٹریکٹرز دینے اور کھادوں بیجوں زرعی آلات پر سبسڈی دینے بارے اقدامات ماضی کی حکومتوں میں ہوتے رہے لیکن زراعت اور کاشتکار تنزلی کی طرف ہی گئے ہیں حکومت پنجاب نے ٹل کا زور لگایا کہ جنوبی پنجاب میں کپاس کی کاشت پہلے سے زیادہ رقبے پر کاشت کی جانے گی وسائل خرچ کیے تشہیر کی گئی لیکن کسانوں نے حکومت کو شٹ اپ کال دی جس کا نتیجہ کپاس کی پیداوار میں پچھلے سیزن سے پچاس فیصد کمی آئی ہے اب امریکہ سے کپاس کی بیلیں درآمد کی جائیں گی ڈوب کے مر جانے کا مقام ہوتا چائیے حکومت اور محکمہ زراعت اور پالیسی سازوں کیلئے مگر شرم ان کو نہیں آتی یہ پیکج پیکج کے لولی پاپ حکومت اپنے پاس رکھے اگر کسانوں کو انصاف پر مبنی اجناس کی صحیح قیمتیں مقرر کرے
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت پر ہر قسم کا مافیا ایکٹو ہوچکا ہے، حکمران کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننا ہماری مجبوری ہے
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ چھوٹے کسانوں کا استحصال کسی صورت قبول نہیں۔ حیرانی ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کے ایجنڈے میں کسان اور مزدور کے مسائل شامل نہیں ہیں جماعت اسلامی کسانوں کے حقوق کے لیے وہاڑی، منڈی بہاؤلدین، جھنگ سمیت بڑے شہروں میں اور بعد میں لاہور میں بھرپور احتجاج کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں سے ہونے والے فائدہ کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے استعمال کرے۔جماعت اسلامی کی عوامی مسائل کے حل کے لیے تحریک جاری رہے گی اور ہم دیہاتوں اور شہروں میں محلوں کی سطح تک عوامی کمیٹیاں تشکیل دیں گے ملک پر مسلط ٹولے سے نجات، جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی