محمد قیصر چوہان
پاکستانی حکومت نے عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کی خاطر ملکی تاریخ کی ریکارڈ سازمہنگائی اور بے روزگاری کی آگ میں جلنے والی عوام کوٹیکس کے بوجھ تلے دبا دیا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں برائے نام دس فیصد اور پنشن میں سات فی صد کا معمولی اضافہ کیاگیا۔ جبکہ ملک کے با وسائل اور سرمایا دار طبقہ سے تعلق رکھنے والے وفاقی کابینہ مجلس شوریٰ کے ایوان بالا، سینیٹ اور ایوان زیریں، قومی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور ان گنت دیگر مراعات میں آٹھ سو فی صد تک اضافہ کر کے ’’حقیقی عوامی نمائندے ‘‘ ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے۔ حکومتی اخراجات میں کمی کے دعوے وزیر اعظم بھی اپنی اکثر تقریروں میں کرتے رہتے ہیں اور وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ سے متعلق وضاحتی پریس کانفرنس میں بھی دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی اخراجات میں جتنی کمی کر سکتے تھے ہم نے کی ہے مگر اس دعوے سے متعلق زمینی حقائق خاصے مختلف ہیں اور جو میزانیہ برائے 2025/26 ء وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے اس کے مطابق حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے اور کابینہ کے جاری اخراجات میں موجودہ سال کے مقابلے میں اگلے برس دو گنا اضافہ کیا گیا ہے، تنخواہوں اور مراعات کے لیے کابینہ کا بجٹ 35 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھا کر 68 کروڑ 87 لاکھ روپے، وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص رقم 27 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے، وزیر اعظم کے مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کیلئے تین کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ 31 لاکھ روپے اور وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی خدمات کے صلہ میں تین کروڑ 70 لاکھ روپے کے بجائے گیارہ کروڑ 34 لاکھ روپے ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے اشرافیہ کے دیگر طبقات کے اخراجات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔ آئندہ برس کے میزانیہ میں اشرافیہ کیلئے بے دریغ نوازشات کی بارش اور عام سرکاری ملازمین اور غربت و مہنگائی کے مارے ہوئے نچلے طبقات کیلئے وسائل کی عدم دستیابی کا جو ڈھنڈورا وزیر خزانہ پیٹ رہے ہیں یہ حکومت کے دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عوامی نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی یہ دلیل دی گئی کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہ کم ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی رکن اسمبلی اور اس کی فیملی کو علاج معالجے کی مفت سہولت کے علاوہ پورے سال جاری رہنے والے اسمبلی میں اجلاس میں شرکت کے لیے ٹی اے، ڈی اے کی مد میں بھی خطیر رقم دی جاتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اسمبلی میں کوئی بل پیش کیا جاتا اس کے برخلاف اپنی ہی مراعات میں اضافہ کروا کے عملاً قوم کو یہ پیغام دیا گیا کہ جنہیں وہ اپنا مسیحا، ہمدرد و خیرخواہ سمجھتے ہیں وہ قطعاً ایسے نہیں انہیں عوامی مشکلات اور مسائل کے حل سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے قرضے 760 کھرب روپے سے متجاوز کر چکے ہوں ،جس ملک کا عام شہری تک اس قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، جہاں مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہو، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہو، 40 فی صد سے زائد افراد خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، جس ملک کی شرح خواندگی فخر کے قابل نہ ہو، جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول جانے سے محروم ہوں، جہاں بے روزگاری کی وجہ سے گزشتہ تین سال میں 25 لاکھ سے زائد نوجوان بہتر روزگار کے لیے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جاچکے ہوںجہاں 96 فی صد شہری اور 89 فی صد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہ ہو، جہاں باپ اپنے بچوں کی خواہشات نہ پوری کرنے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہا ہو، بچے فروخت کیے جارہے ہوں۔ خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہو، مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہو، غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں، وہاں کے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں شاہانہ اضافہ اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ حکومتی ارکان اور عوامی نمائندوں کو عوامی مسائل و مشکلات کی قطعاً پروا نہیں، ان کی بلا سے کوئی مرے یا جیے۔لطف کی بات یہ ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے آرزو مند، اور ملک میں ’’انصاف‘‘ کا بول بالا کرنے کا عزم رکھنے والوں نے مراعات کے حصول کیلئے اپنے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر نظر آئے اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے وقت کوئی عار محسوس نہیں کی، نہ انہیں عوام یاد آئے نہ عوامی مسائل، اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کرانے والوں نے عوام کا نہیں سوچا اور نہ ہی انہیں اس بات کی فکر ہے کہ پاکستان اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے کی کس گہری کھائی کے دہانے پر کھڑا ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ ارکان اسمبلی مالی آسودگی پانے کے بعد عوامی مسائل و مشکلات کے لیے یکسو ہو جائیں گے اور ان مراعات کے بعد عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وہ میدان عمل میں کود پڑیں گے ، بل منظور کرانے والوں نے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے، انہوں نے نہ عوام کی معاشی مشکلات کا خیال کیا نہ ہی اپنے اس حلف کا پاس رکھا جس میں درج تھا کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی و عوامی مفادات پر ترجیح دیں گے۔ یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنا نہ حکومت کی ترجیح ہے نہ ان سیاسی جماعتوں کی جو عوام کو سبز باغ دکھاکر ایوان تک پہنچتی ہیں، آج عوام کس صورتحال سے دوچار ہیں، انہیں کن معاشی مشکلات کا سامنا ہے؟ کوئی نہیں جو عوام کے لیے سوچے اور گوناگوں مسائل کے گرداب میں پھنسے عوام کے لیے کچھ کرے۔ حکومت نے ایک مزدور کی جو تنخواہ مقرر کی ہے کیا وہ تنخواہ ایک مزدور اور اس کے خاندان کے لیے کفالت کا باعث ہے؟ کیا اسے ملنے والی تنخواہ میں کوئی میں اقتصادی جادوگر چار پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا بجٹ بنا سکتا ہے؟۔ ایک جانب کفایت شعاری کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب اس نوع کے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے عوام میں سخت مایوسی اور بددلی پھیلتی جارہی ہے۔