شہزاد راجپوت
دنیا کی سیاست میں یوٹرن لینا کوئی نئی بات نہیں مگر جو کمال نریندر مودی نے دکھایا ہے وہ شاید ہی کسی اور رہنما کے حصے میں آیا ہو۔ کل تک چین کے خلاف شعلہ بیانی، آنکھوں میں آگ، زبان پر تیز دھار جملے اور بیجنگ کو للکارنے والے بیانات۔آج وہی مودی چین کے لئے محبت کے نغمے گا رہے ہیں۔یاد رہے جب مودی جی قوم کو یہ باور کراتے نہیں تھکتے تھے چین بھارت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔سرحدی جھڑپوں کے بعد جب بھارتی فوجیوں کے تابوت گھروں کو پہنچے تو مودی کی تقریریں ایسے لگتی تھیں جیسے وہ اگلے دن بیجنگ فتح کرنے کا اعلان کر دیں گے۔ یہاں تک کہ چینی موبائل فونز اور ایپس کے بائیکاٹ کو ’’قومی غیرت‘‘ کا مسئلہ بنا دیا گیا۔مگر آج ذرا منظر دیکھئے۔ وہی مودی جی چین کو ’’ترقی کا شراکت دار‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ وہی زبان جس سے کل تک چنگاریاں نکلتی تھیں آج اس سے گلاب جھڑ رہے ہیں۔ کل تک سرحدی تنازع پر خون کھولتا تھا آج معاشی تعلقات پر لہجہ ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔سوال یہ ہے کیا یہ تبدیلی دل کی ہے یا جیب کی؟ کیا یہ محبت اچانک جاگی ہے یا پھر بھارتی معیشت نے وزیراعظم کو سمجھا دیا ہے چین سے جھگڑا کرنا کھیل نہیں۔حقیقت یہ ہے مودی کی سیاست ’’قوم پرستی‘‘ کے کھوکھلے نعرے اور ’’مفاد پرستی‘‘ کے چھپے ہوئے ایجنڈے کے بیچ ڈولتی رہتی ہے۔ جب ووٹ درکار ہوں تو چین سب سے بڑا دشمن، اور جب سرمایہ درکار ہو تو چین سب سے پیارا دوست!یہی وجہ ہے مودی کی زبان پر اب عوام بھروسہ کرنے سے
کتراتے ہیں۔ کل کے نعرے آج کے بیانات کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ جو لیڈر اپنی بات پر قائم نہ رہ سکے وہ قوم کو کس بنیاد پر قیادت دے سکتا ہے؟ دنیا بھی اب یہ سوال پوچھ رہی ہے بھارت ایک سنجیدہ ریاست ہے یا پھر صرف موقع پرست قیادت کا شکار ہے؟اصل میں مودی کی سیاست ایک پرانی فلم کی طرح ہے جس میں کہانی بدلتی نہیں بلکہ صرف مکالمے بدل جاتے ہیں۔ کل ’’چین کو سبق سکھائیں گے‘‘ کا ڈائیلاگ چل رہا تھا اور آج ’’چین سے محبت بڑھائیں گے‘‘ کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔کل کا نعرہ تھا ’’چین چھوڑو‘‘، آج پیغام ہے ’’چین سے جڑو‘‘۔مودی جی کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں محض بیانات سے نہیں چلتی۔ دنیا انہیں سنجیدہ اسی وقت لے گی جب وہ مستقل مزاجی اور شفافیت کے ساتھ ایک واضح خارجہ پالیسی اپنائیں گے۔ ورنہ تاریخ انہیں صرف ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد رکھے گی جو کل کے دشمن کو آج کا محبوب بنانے میں ماہر تو تھا مگر اپنی قوم کو اعتماد دینے میں ناکام رہا۔