طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کے لیے سنگین خطرہ بن گئی

طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کے لیے سنگین خطرہ بن گئی

یورپی یونین کی ایک لیک شدہ سیکیورٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان سے ابھرتی ہوئی شدت پسندی اور دہشت گرد نیٹ ورکس یورپ کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود مختلف شدت پسند گروہ، خاص طور پر داعش خراسان، نہ صرف خطے بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ تصور کیے جا رہے ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہے ہیں اور نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم عناصر سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس، بشمول ٹیلیگرام اور ٹک ٹاک، کو پروپیگنڈا اور مبینہ بھرتی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض کیسز میں کم عمر افراد کو آن لائن مواد کے ذریعے متاثر کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ جدید ڈیجیٹل حکمت عملی اپنا رہے ہیں، جس کے باعث ان کی سرگرمیوں کو روکنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کے سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال یورپ میں پرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے، جس کے لیے رکن ممالک کو اپنی نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔دستاویز میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات صرف علاقائی نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات عالمی سطح تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی رپورٹس عالمی سیکیورٹی پالیسیوں پر اثر ڈال سکتی ہیں اور یورپی ممالک میں امیگریشن، سائبر مانیٹرنگ اور انسداد انتہا پسندی کے اقدامات مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔