چین اور روس کا افغان سرزمین پر پنپتی دہشت گردی پر شدید تشویش کااظہار

چین اور روس کا افغان سرزمین پر پنپتی دہشت گردی پر شدید تشویش کااظہار

چین اور روس نے افغانستان سے پھیلتی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا ہے۔

 دونوں ممالک نے زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، انتہا پسندی اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں افغانستان میں پائیدار امن، مستحکم سیاسی نظام اور مؤثر سیکیورٹی ڈھانچے کے فوری قیام کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ چین اور روس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تعاون میں اضافہ کرے۔

عالمی ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے مختلف دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور روس کا مشترکہ مؤقف افغانستان سے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید کرتا ہے، جس میں بارہا افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔