پی ٹی آئی حکومت میں دبا ئومیں تھا، جوچیز کرنا چاہ رہا تھا نہیں کر پا رہا تھا، شبر زیدی

بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے سسٹم خراب رہے،میں نے ایف بی آر میں 15 ہزار بندوں کو فارغ کرنے کا کہا:بق چیئرمین ایف بی آر 
اسلام آباد(آئی این پی )سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں دبائو میں تھا،جو چیز کرنا چاہ رہاتھا وہ نہیں کر پا رہاتھا، پراپرٹی ویلیو ایشن کے ٹیبل کو ریوائز کرنے کی کوشش کی تھی، تاجروں کو رجسٹرڈ کرنے کی کوشش کی تھی، بینکوں کی ٹرانزیکشن کو ریلیٹ کرنیکی کوشش کی تھی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایف بی آر میں 10 سے 15 ہزار افراد کو فارغ کرنے کا کہا، میں کہتا تھا ایف بی آر میں 15 ہزار افراد کی ضرورت نہیں، ان 15 ہزار افراد کو گھر بٹھا دیں،آفس نہ آنے دیں،یہ سب چیزیں نہیں ہوئیں،اہلخانہ نے مشورہ دیا کہ چھوڑ کر کراچی آجائیں، بانی پی ٹی آئی نے مجھ پر بہت دبائو ڈالا کہ میں واپس آجائوں، بانی پی ٹی آئی کے کہنے پرایف بی آرمیں واپس آیا، ایف بی آرمیں وہی چیزیں دیکھیں تو میری طبیعت مزید خراب ہوئی،پھرکراچی واپس آگیا، میں نے کبھی ایف بی آر سے استعفی نہیں دیا۔ان کا کہناتھا کہ حکومتیں دعوی کرتی ہیں کہ وہ کیش اکانومی کم کرے گی، ریئل اسٹیٹ کو درست کریں گی، اسمگلنگ روکیں گی۔ کوئی حکمران آتاہے تو کچھ مہینے بعد وہ نظام کا حصہ بن جاتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے، پاکستان میں تبدیلی یا انقلاب صرف ایک لفظ ہے، جونظام کے خلاف چلتا ہے،نظام اس کو باہر پھینک دیتا ہے، نظام درست کرنے کیلئے بندہ لائیں گے تو نظام اسے 6 مہینے بعد باہر پھینک دے گا، نظام درست کرنے کیلئے مشین لانا ہو گی، پچھلے10سال میں ہماری ٹیکس کلیشن 14 ہزار ارب روپے تک جاچکی ہے، معیشت کا حجم بڑھ گیا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ ہم اب بھی جی ڈی پی کے حساب سے 10 فیصد ٹیکس جمع کرتے ہیں، حکومت کی مکمل ناکامی ٹیکس کلیکشن نہ ہونا ہے، ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں، ایف بی آر کو جتنے اختیارات دیں گے اتنی کرپشن بڑھے گی، کاروباری برادری کو کوئی مسائل نہیں، صنعتی لوگوں اور تاجروں کو الگ الگ کرنا چاہیے۔ہمارامعاشرہ اس لئے خراب ہے کہ ہم اسے درست نہیں کرنا چاہتے، بانی پی ٹی آئی اورجنرل باجوہ مجھے سپورٹ کر رہے تھے، بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ سسٹم خراب رہے، جوبھی آتا ہے اس کو ادراک نہیں ہوتا کہ خرابی کیوں ہے، امیروں کو موجودہ نظام میں فائدہ ہے،وہ چاہتے ہیں ایسا ہی رہے،کچھ افسران نے میرے خلاف پٹیشن دائرکی تھی،لیکن اسی وقت ختم ہوگئی تھی،بانی پی ٹی آئی کی مجھے جتنی سپورٹ تھی،شایدکسی بندے کو نہیں ملے گی۔