کوئی راستہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہی نکالا جاسکے گا،نیا الیکشن فضل الرحمان کے مفاد میں ہے
اسلام آباد (آئی این پی )سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے دبا ئومیں کوئی بھی کام نہیں کرایا جاسکتا، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ کہتے تھے پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی ہی ہراسکتی ہے۔ایک انٹرویو میں اسد عمر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں وقت نہیں گزار سکتے تو اس کامطلب لوگ انھیں جانتے نہیں، پی ٹی آئی کو 8فروری کو یوم تشکر اور 9فروری پر احتجاج کرنا چاہیے تھا، 8فروری کو عوام بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کیلئے نکلے اصل کام 9فروری کو ہوا۔ پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے کہا کہ جلسہ صوابی میں ہونا ہے اور پہلے سے ہی اسلام آباد میں گرفتاریاں شروع ہوگئیں،، بانی پی ٹی آئی کی سیاست سسٹم کو قبول نہیں اسی لیے وہ جیل میں ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ سیاست بدل جائے یا سسٹم مائنڈ تبدیل کرلے بانی پی ٹی آئی باہر آجائیں گے، اس وقت اقتدار میں وہ جماعت ہے جو انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہی، کراچی میں ایم کیو ایم کو جو نشستیں ملی ہیں ان کو خود بھی یقین نہیں ہے۔پی ٹی آئی کے آپشن ختم ہوتے جارہے ہیں تو دوسری طرف بھی آپشن نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نکال لینا چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے حالیہ ایک مرتبہ پھر مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے، جنگ کا اعلان تونہیں کیا، جمہوری راستہ اپنایا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے دبا ئواسی لیے ڈالا جارہا ہے مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جائے۔انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں سیٹلمنٹ کا کوئی راستہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہی نکالا جاسکے گا، مولانا فضل الرحمان 5 سال باہر نہیں بیٹھنا چاہتے وہ بھی نیا الیکشن چاہتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ نیا الیکشن مولانا فضل الرحمان کے مفاد میں ہے، پی ٹی آئی نے اب جو نئے الیکشن کا ایجنڈا اٹھایا مولانا بھی ساتھ آسکتے ہیں۔