گہرے سمندر میں سمندری چٹانوں کی خود آکسیجن پیدا کرنے کی حیران کن دریافت

گہرے سمندر میں سمندری چٹانوں کی خود آکسیجن پیدا کرنے کی حیران کن دریافت

گہرے سمندر میں دھاتوں سے بھرپور چٹانوں کے بارے میں ایک نیا اور حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ چٹانیں سورج کی روشنی کے بغیر آکسیجن پیدا کر سکتی ہیں، جس پر سائنسدانوں کے درمیان شدید بحث جاری ہے۔

یہ تحقیق جولائی 2024 میں نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ سمندری فرش پر موجود پولی میٹالک نوڈلز نامی چٹانیں اتنی برقی توانائی پیدا کر سکتی ہیں کہ وہ پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر سکیں، جسے الیکٹرولیسس کا عمل کہا جاتا ہے۔اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ زندگی کے بارے میں ہمارے روایتی نظریے کو چیلنج کر سکتا ہے، جو کہتا ہے کہ زمین پر زندگی صرف سورج کی روشنی اور فوٹوسنتھیس کے ذریعے ممکن ہوئی۔ یہ تحقیق خاص طور پر میکسیکو اور ہوائی کے درمیان کلیرین-کلپپرٹن زون میں کی گئی، جو گہرے سمندر میں ایک وسیع علاقہ ہے اور یہاں دھاتوں کی موجودگی جیسے نکل، مینگنیز، اور کوبالٹ نے مائننگ کمپنیوں کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔

ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے اس دریافت کو ایک وارننگ قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گہرے سمندری ماحولیاتی نظام کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ تنظیم نے بحرالکاہل میں گہرے سمندر کی کان کنی پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تاکہ نایاب سمندری حیات کو نقصان نہ پہنچے۔یہ تحقیق نہ صرف زندگی کی ابتدا کے حوالے سے نئے سوالات اٹھاتی ہے بلکہ گہرے سمندر کے وسائل پر انسانی دسترس اور ماحولیاتی خدشات کو بھی اجاگر کر رہی ہے، جو مستقبل میں سمندری وسائل کی پائیدار استعمال پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔