جرمنی میں جُراسک دور کی نایاب سمندری مخلوق کی دریافت

جرمنی میں جُراسک دور کی نایاب سمندری مخلوق کی دریافت

برلن (ویب ڈیسک): جرمنی کے سائنسدانوں نے تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ سال پہلے سمندروں میں تیرنے والی ایک قدیم آبی مخلوق دریافت کی ہے، جو ڈائنوسار کے دور کی ہے۔

 اس زمانے میں جب زمین پر خوفناک ڈائنوسار کا راج تھا، سمندروں میں یہ مخلوق حکمرانی کرتی تھی۔

دریافت کی تاریخ اور تحقیق
یہ نایاب مخلوق پہلی بار 1978ء میں جرمنی کے علاقے ہولزماڈن کی ایک پتھر کی کان سے ملی تھی، لیکن اس وقت اس پر زیادہ تحقیق نہیں ہوئی۔ اب جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مخلوق ایک نئی اور منفرد قسم کی ہے، جسے پہلے کبھی دریافت یا شناخت نہیں کیا گیا تھا۔

سائنسی نام اور خصوصیات
سائنسدانوں نے اس کا نام "پلیسیونیٹس لانگی کولم" (Plesionectes longicollum) رکھا ہے، جس کا مطلب ہے:

"لمبی گردن رکھنے والی تیراکی کرنے والی مخلوق"
یہ مخلوق:

لمبی گردن کی حامل تھی۔
انتہائی ماہرانہ تیراکی کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
اس کی جسمانی ساخت منفرد اور مختلف اقسام کی سمندری مخلوقات سے الگ تھی۔
حیرت انگیز طور پر محفوظ فوسل
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ اس مخلوق کا ڈھانچہ تقریباً اصل حالت میں ملا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق کروڑوں سال بعد بھی اس کے جسم کے نشانات بالکل واضح ہیں، جو اس دریافت کو مزید منفرد بناتے ہیں۔

میوزیم میں نمائش
یہ نایاب فوسل اب جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں واقع اسٹیٹ میوزیم فار نیچرکنڈے میں مستقل طور پر محفوظ کر دیا گیا ہے، جہاں دنیا بھر سے لوگ آ کر اسے دیکھ سکتے ہیں۔