پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ غیر ملکی دوروں میں پاکستان کا بھرپور مقدمہ عالمی سطح پر پیش کیا اور دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور علاقائی تنازعات پر مؤثر آواز اٹھائی۔
مشرقی وسطیٰ اور اسرائیل کا جنگی طرز عمل
شیری رحمان نے اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا:"اسرائیل نے وہی جنگ مسلط کی ہے، جیسی بھارت نے پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی تھی۔"انہوں نے مزید کہا:"پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال ہے، اور یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔"
بلاول بھٹو کے کردار کی تعریف
شیری رحمان نے بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:"بلاول نے صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک مسلسل ملاقاتیں کیں، ہمیں سونے پینے کا بھی ہوش نہ تھا، مگر ہم نے ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔"انہوں نے کہا کہ:"دنیا نے پاکستان کو اب ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا ہے۔"
وفاقی بجٹ پر تنقید
شیری رحمان نے بجٹ 2025-2026 پر بھی کڑی تنقید کی، خاص طور پر:ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا:"یہ فیصلہ ماحول دشمن ہے، پاکستان میں پہلے ہی فضائی آلودگی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے، اور اب سڑکوں پر دوبارہ کالے دھوئیں والی گاڑیاں نظر آئیں گی۔"ماحولیاتی بجٹ میں کمی پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا:"پاکستان دنیا کے ماحولیاتی لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے بجٹ میں کٹوتی کر دی گئی۔"
معاشی پالیسی، اجرت اور پرائیویٹ سیکٹر
شیری رحمان نے کہا کہ:"ہم نے اپنی تنخواہیں تو بڑھا لیں، لیکن کم از کم اجرت نہیں بڑھائی، اور عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں۔"انہوں نے ایف بی آر کو دیے گئے اختیارات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"ایف بی آر کو سی ای اوز کو گرفتار کرنے کا ڈریکونین اختیار دیا گیا ہے، جس سے نجی شعبے کو نقصان ہوگا۔"ان کا مزید کہنا تھا کہ:"اب نوکریاں نجی شعبے سے آنی ہیں کیونکہ پبلک سیکٹر پہلے ہی سکڑ چکا ہے۔"
قومی سلامتی اور قرضوں کا دباؤ
شیری رحمان نے دفاع اور قرضوں کے بجٹ میں اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:"ہمیں 15-20 سال پرانے منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ موجودہ معاشی صورتحال میں غیر ضروری اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔"