پاکستان میں عالمی بینک کے مطابق 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے ہیں: سینیٹر شیری رحمان

پاکستان میں عالمی بینک کے مطابق 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے ہیں: سینیٹر شیری رحمان

پارلیمانی فورم کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے تین بڑے چیلنجز ہیں۔

 انہوں نے پاکستان پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی بینک کے مطابق ملک میں 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے نشاندہی کی کہ بڑھتی ہوئی آبادی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے، اور پاکستان کو سالانہ 15 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی معیشت کو متاثر کر رہی ہے، اور آبادی کے کنٹرول کے بغیر معیشتی ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا، اور آبادی سے واٹر اور فوڈ سیکیورٹی جڑی ہوئی ہے۔ ملک میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی جاب مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے گریجویٹس کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں پاپولیشن فنڈ میں مزید فنڈز فراہم کیے جائیں، اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مؤثر بنایا جائے تاکہ وہ آبادی کنٹرول میں اہم کردار ادا کریں۔