امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نہایت سخت ردعمل دیتے ہوئے "جنگ کے آغاز" کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کا یہ بیان عالمی سطح پر ہلچل کا باعث بن گیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایک نئے ممکنہ جنگی باب کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔خامنہ ای نے یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک رجزیہ فارسی شعر اور ایک علامتی پینٹنگ کے ساتھ جاری کیا:
بہ نامِ نامیِ حیدر، نبرد آغاز میگردد
علی با ذوالفقارِ خود، بہ خیبر باز میگردد
(ترجمہ: علی کے بڑے نام سے میں نے لڑنا شروع کیا، علی اپنی تلوار ذوالفقار کے ساتھ خیبر واپس آ گیا۔)
ایران انٹرنیشنل نیوز کے مطابق، اس پوسٹ میں جس "خیبر" کا ذکر ہے وہ دوہرا مفہوم رکھتا ہے:تاریخی حوالہ: خیبر، وہ قلعہ بند یہودی شہر تھا جسے حضرت علیؑ نے ساتویں صدی میں فتح کیا تھا۔ یہاں امام علیؑ کا ذکر شجاعت اور فتح کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے۔معاصر سیاسی استعارہ: ایران نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر ایک نیا "خیبر میزائل" استعمال کرے گا، لہٰذا خیبر کا استعمال براہِ راست اسرائیل کے خلاف دھمکی کے طور پر لیا جا رہا ہے۔خامنہ ای کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں ایک شخص تلوار تھامے ہوئے ایک قلعہ نما دروازے میں داخل ہو رہا ہے، اور آسمان پر آگ کی لپٹیں دیکھی جا سکتی ہیں، جس سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران اپنی عسکری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر چکا ہے۔
ٹرمپ کا دھمکی آمیز مطالبہ:
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فی الفور ہتھیار ڈال دے۔ اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ:"ہم نے خامنہ ای کے قتل کو ابھی کے لیے روک رکھا ہے، لیکن اگر ایران نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو امریکہ براہِ راست کارروائی کرے گا۔"اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے سفارتی سطح پر کوئی مثبت جواب نہ دیا گیا، تو امریکہ کا براہِ راست فوجی مداخلت میں شامل ہونا اب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔
تجزیہ:
خامنہ ای کی یہ پوسٹ محض شعری یا مذہبی حوالہ نہیں بلکہ ایک براہِ راست جنگی اعلان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیل پر مسلسل میزائل حملوں اور امریکی الٹی میٹمز کے ماحول میں یہ پیغام عالمی طاقتوں کے لیے واضح اشارہ ہے کہ ایران پسپائی اختیار کرنے کے بجائے میدانِ جنگ کو ترجیح دے رہا ہے۔
ممکنہ نتائج:
خطے میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ کا خطرہ
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ہنگامی مشاورتوں کا امکان
عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ