ویب ڈیسک: بھارت میں پہلگام فالس فلیگ حملے کی ناکامی کو چھپانے اور اس کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار کے زیرِ سایہ انتہا پسند ہندو عناصر نے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو دو دن میں دکانیں خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ پولیس کی موجودگی میں نکالی گئی ریلی کے دوران "جے شری رام" کے نعرے لگائے گئے اور اعلان کیا گیا کہ اگر کسی دکان میں مسلمان ورکر کام کرتا ہے تو اُسے فوراً نکالا جائے۔ریلی میں انتہا پسند عناصر نے دھمکی دی کہ مسلمانوں کو کام دینے والے دکانداروں کی دکانیں بند کر دی جائیں گی اور ان پر تضحیک آمیز حملے کیے جائیں گے۔ مزید کہا گیا کہ آئندہ مسلمان کسی بھی کاروبار یا ملازمت میں نظر نہ آئیں، بصورتِ دیگر سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
انتہا پسند ہندو رہنماؤں نے اشتعال انگیز تقاریر میں کہا کہ:
“ہریانہ ہمارے قریب ہے، 22 میں سے صرف ایک ضلع مسلمانوں کا ہے، لیکن حملے وہیں سے ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے ہتھیار اٹھا لیے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ہم ان مولویوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں گے۔”تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوتوا کا کھلے عام پرچار اب بھارت کے مبینہ "سیکولر" تشخص کو مکمل طور پر بے نقاب کر چکا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کا اصل نشانہ بھارتی مسلمان ہیں اور یہ کشیدگی منظم منصوبے کے تحت بڑھائی جا رہی ہے۔
مزید یہ بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ پہلگام واقعہ فالس فلیگ آپریشن تھا، جسے بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خلاف ایک نیا سلسلہ وار ظلم و جبر شروع کیا گیا ہے، جس میں پہلے ان کے گھروں اور جان و مال پر حملے کیے گئے اور اب ان کی معاشی زندگی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔