امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام یا دیگر امریکی مطالبات میں تعمیری اقدامات نہ کرے، تو اسرائیلی افواج کی قیادت میں مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف وہی نوعیت کی کارروائی کی جا سکتی ہے جیسی سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے دور میں پیش آنے والے کشیدہ حالات میں کی گئی تھی۔ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے وہ خوش نہیں اور ان کے مطابق ایران کا نیا رہنما “پرسکون زندگی نہیں گزار سکے گا۔” امریکی مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود یا ختم کرنا شامل بتایا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اگر ایران اپنی موجودہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی نہیں لاتا، تو دباؤ اور بڑھایا جا سکتا ہے اور ممکنہ اقدامات کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ یہ صورتحال ایران میں سپریم لیڈر کی تبدیلی اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی اور فوجی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی، امریکی اور اسرائیلی فوجی حکمت عملی، اور ایران کی داخلی پالیسیوں پر عالمی میڈیا کی نگاہیں مرکوز ہیں، جبکہ ممکنہ فوجی آپریشنز کی سنجیدگی اور ان کے اثرات پر بھی ماہرین تجزیہ کر رہے ہیں۔