پنجاب کے سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور مہندر پال سنگھ نے فیصل آباد ایئرپورٹ پر 92 پاکستانی سکھ یاتریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کے معاملے پر حکومت اور متعلقہ حکام سے مسئلہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سکھ یاتری شری ہیم کنٹ صاحب کی یاترا کے لیے بھارت روانہ ہونا چاہتے تھے، تاہم فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انہیں خلیجی ملک کے راستے بھارت جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ حکام کے مطابق یاتریوں کے پاس بھارتی ویزے موجود تھے، تاہم ان کے پاس واپسی کے ٹکٹ اور وفاقی حکومت کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) موجود نہیں تھا۔مہندر پال سنگھ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں سے اس معاملے کو حل کرنے کی پہلے بھی اپیل کی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق سکھ سنگت کی ہدایت پر اب متعلقہ حکام کو آخری بار متنبہ کیا جارہا ہے کہ یاتریوں کے سفر میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ یاتریوں نے اپنے بھارتی ویزے پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (PSGPC) یا متعلقہ سرکاری اداروں کے ذریعے سفر کا انتظام کیے بغیر حاصل کیے تھے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ یاتریوں کو سفر کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے تھا اور واہگہ کے زمینی راستے سے بھارت جانے کا آپشن بھی زیر غور لایا جاسکتا ہے۔واقعے کے بعد یاتریوں کی جانب سے ایئرپورٹ پر انتظار اور حکام سے سفر کی اجازت دینے کی اپیل کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض یاتری کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر موجود رہے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے کیے گئے۔
مہندر پال سنگھ نے اپنے بیان میں گزشتہ ہفتے بھارت جانے والے ہندو یاتریوں کے دو وفود کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق 15 ستمبر کی رات 84 ہندو یاتری کراچی سے اتحاد ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے ابوظہبی کے راستے نئی دہلی پہنچے، جبکہ 16 ستمبر کو مزید 118 یاتری بھارت روانہ ہوئے۔ان ہندو یاتریوں کا مقصد مدھیہ پردیش کے اشوک نگر میں واقع شری آنند پور صاحب آشرم کی زیارت بتایا گیا ہے۔ مہندر پال سنگھ کے مطابق دونوں وفود پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی کے انتظام کے تحت کراچی سے روانہ ہوئے، جس کے باعث ان کے سفر میں رکاوٹ پیش نہیں آئی۔مہندر پال سنگھ کا کہنا ہے کہ سکھ یاتریوں کے لیے شری ہیم کنٹ صاحب کی یاترا کا موسم محدود ہے اور سرد موسم شروع ہونے کے باعث یاترا کا سیزن جلد ختم ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر 92 سکھ یاتریوں کے سفر کا معاملہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو ان کا مذہبی سفر متاثر ہوسکتا ہے۔دوسری جانب دستیاب سرکاری مؤقف کے مطابق یاتریوں کو مطلوبہ سفری دستاویزات، خصوصاً NOC اور واپسی کے ٹکٹ فراہم کرنے کے بعد سفر کی اجازت دینے کا معاملہ دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ واہگہ کے راستے سفر کا آپشن بھی زیر غور رہا ہے۔
شری ہیم کنٹ صاحب بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں واقع سکھ مذہب کے اہم مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے سکھ یاتری مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔