پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن کا حکومت کو الٹی میٹم

پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن کا حکومت کو الٹی میٹم

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے پر حکومت کو اسلام آباد لانگ مارچ کا الٹی میٹم دے دیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی جدوجہد مزید تیز کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل اضافی بوجھ ڈالا جارہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی کے مطابق جماعت اسلامی کے 32 مقامات پر دھرنے گزشتہ 25 روز سے جاری ہیں، جبکہ حکومت نے مذاکرات کے لیے مزید 3 دن کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے نتائج سامنے آنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پٹرولیم لیوی عالمی مارکیٹ نہیں، حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے، حافظ نعیم
حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا تعلق عالمی مارکیٹ سے نہیں بلکہ حکومتی نااہلی اور عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی پالیسی سے ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے عوام سے 1,567 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے مزید پٹرول مہنگا کیا تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دے گی۔

10 ستمبر کے مذاکرات کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق 10 ستمبر کو حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں گے، جس کے بعد جماعت اسلامی اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ اگر حکومت مذاکرات کے باوجود اپنی پالیسی تبدیل کرنے اور عوام کو ریلیف دینے پر آمادہ نہ ہوئی تو جماعت اسلامی اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دے گی۔

عوام کو ریلیف کے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں، جماعت اسلامی
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں بنیادی سہولیات کی صورتحال خراب ہے اور عوام کو مہنگائی، بجلی، پٹرول اور دیگر اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں مافیاز کا راج ہے اور عام آدمی کو بنیادی ضروریات کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت اگر واقعی ملک کی معاشی صورتحال بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔ ان کے مطابق عوام پر مسلسل ٹیکسز اور اضافی مالی بوجھ ڈال کر معیشت کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے لے اور پٹرولیم لیوی سمیت دیگر اقدامات پر نظرثانی کرے، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک کو مزید آگے بڑھانے پر مجبور ہوگی۔