مہنگائی اور معاشی دباؤ سے ذہنی امراض اور دل کے مریضوں میں اضافہ، ماہرین کا انتباہ

مہنگائی اور معاشی دباؤ سے ذہنی امراض اور دل کے مریضوں میں اضافہ، ماہرین کا انتباہ

غربت، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات اب صحت پر بھی نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔

 ماہرین صحت کے مطابق معاشی دباؤ، ذہنی تناؤ اور مسلسل پریشانی کے باعث ڈپریشن اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ماہرین کے مطابق کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سمیت مختلف اسپتالوں میں روزانہ ایسے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں جو ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور دل سے متعلق مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ماہر امراض قلب ڈاکٹر ساجد خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے لوگوں کی ذہنی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ بلڈ پریشر میں اضافے، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر قلبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو مسلسل پریشانی، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور دل کی تکالیف کی شکایات لے کر آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر ساجد خان نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ مشکل معاشی حالات میں اپنی ذہنی صحت کو نظر انداز نہ کریں، متوازن غذا، مناسب نیند اور ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تبدیلی یا مسلسل ذہنی دباؤ محسوس ہو تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ عوام کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات اور آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔