غزہ جنگ میں توسیع کی مخالفت پر اسرائیلی فوجی سربراہ کا انتباہ، نیتن یاہو دباؤ کا شکار

غزہ جنگ میں توسیع کی مخالفت پر اسرائیلی فوجی سربراہ کا انتباہ، نیتن یاہو دباؤ کا شکار

اسرائیلی فوجی سربراہ ایال زمیر نے غزہ میں جاری جنگ کے مزید پھیلاؤ کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام اسرائیلی فوج کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے، جس سے یرغمالیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ انتباہ منگل کے روز تین گھنٹے طویل ایک سیکیورٹی میٹنگ کے دوران دیا گیا، جہاں ایال زمیر نے واضح کیا کہ غزہ کے بقیہ حصے پر قبضے سے فوج شدید پھنسا دی جائے گی، جبکہ اسرائیل پہلے ہی 75 فیصد غزہ پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔اسرائیلی فوج ایک عرصے سے غزہ میں براہ راست فوجی حکمرانی، اس علاقے کے الحاق اور وہاں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتی رہی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع، یواو گیلنٹ اور وزیر اسرائیل کاٹز کا مؤقف ہے کہ فوجی سربراہ کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، تاہم فوج کو حکومتی فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہو گا۔

اس معاملے پر بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ جنگ میں مزید توسیع کی خبروں سے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا ہوئی ہے، جبکہ عالمی برادری نیتن یاہو حکومت پر فوری جنگ بندی کے لیے زور دے رہی ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اس وقت اندرونی سیاسی دباؤ اور بین الاقوامی دباؤ، دونوں کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ جنگ زدہ علاقے میں انسانی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔