فلسطینیوں کے قتل میں ملوث اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی دباؤ بڑھا، خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ

فلسطینیوں کے قتل میں ملوث اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی دباؤ بڑھا، خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ

اسرائیل میں معصوم فلسطینیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ملوث فوجیوں کی ذہنی صحت میں تنزلی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث ان میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 اسرائیلی فوجی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ 2024 کے دوران 21 فوجیوں نے خودکشی کی، جو کہ 2023 میں 17 خودکشیوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق غزہ میں لڑنے والے ہزاروں فوجیوں نے ذہنی دباؤ کی وجہ سے جنگی ذمہ داریوں سے انکار کر دیا ہے۔ یہ انکار فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانی اور محاذ پر جانے کے خوف کی غمازی کرتا ہے۔ اسرائیل کے فوجی حکام نے مزید کہا ہے کہ خودکشیوں کی تعداد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ یہ اب فوجی موت کی دوسری سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہر شہری کو فوج میں لازمی طور پر دو سال کی خدمت کرنی ہوتی ہے اور جنگ کی حالت میں تمام شہریوں کو محاذ پر جانا ضروری ہوتا ہے، جنگ میں شرکت سے انکار کرنے والے شہریوں کو قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔گزشتہ سال خودکشی کرنے والے فوجیوں میں 12 ریزرو، 7 لازمی سروس والے اور 2 کیریئر فوجی شامل تھے۔ 2011 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فوجیوں میں اتنی بڑی تعداد میں خودکشی کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ دو سالوں میں فلسطینیوں کے خلاف آپریشنز میں 807 فوجی بھی ہلاک ہوئے۔