عالمی معیشت پر دباؤ اور مہنگائی کے امکانات میں اضافہ

عالمی معیشت پر دباؤ اور مہنگائی کے امکانات میں اضافہ

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ نے ایک بار پھر معاشی خدشات کو جنم دیا ہے، جس سے مختلف ممالک میں مہنگائی کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

 توانائی بحران کے اثرات نہ صرف بڑی معیشتوں بلکہ ترقی پذیر ممالک پر بھی نمایاں ہیں۔رپورٹس کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت عارضی طور پر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے امریکہ میں مہنگائی کی شرح میں 1 سے 2 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، اور جرمنی اور بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔  پاکستان کے حوالے سے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں، تو ملک میں مہنگائی میں 2 سے 4 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جو عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔  علاوہ ازیں، آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی مارکیٹس میں منفی رجحان دیکھا گیا ہے، اور برینٹ کروڈ کی قیمت 126 ڈالر تک جانے کے بعد کچھ کمی کے ساتھ نیچے آئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت میں غیر یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔