فیصل آباد میں نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے کروڑوں روپے کے آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم ملک تحسین اعوان کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق NCCIA نے 8 جولائی کو فیصل آباد میں ایک بڑے چھاپے کے دوران آن لائن فراڈ میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا، جہاں ایک کال سینٹر میں کام کرنے والے 70 سے زائد غیر ملکیوں سمیت 149 افراد کو گرفتار کر کے سات مقدمات درج کیے گئے تھے۔یہ نیٹ ورک ملک تحسین اعوان کے ڈیرے پر قائم کیا گیا تھا، جہاں سے بوگس کمپنیاں، جعلی معاہدے اور غیرقانونی ڈیٹا کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا تھا۔ ملک تحسین اعوان نے ان سات مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی تھی۔تاہم، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے ایک آٹھواں مقدمہ درج کر کے اُسے دوبارہ حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق تحسین اعوان پر الزام ہے کہ اس نے غیر ملکی گروہ کے ساتھ مل کر جعلی کمپنیاں بنائیں، اداروں کو جھوٹا ڈیٹا فراہم کیا، 71 غیر ملکیوں کو جعلی پاسپورٹ نمبرز دیے اور ان میں سے 62 کی موجودگی کو چھپایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو آج عدالت میں پیش کر کے اس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔