اسلام آباد: نیا نائنتھ ایوینیو انڈر پاس بارش سے منہدم، کروڑوں روپے کا منصوبہ ناکام

اسلام آباد: نیا نائنتھ ایوینیو انڈر پاس بارش سے منہدم، کروڑوں روپے کا منصوبہ ناکام

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مون سون کی پہلی شدید بارش نے نیا نائنتھ ایوینیو انڈر پاس زمین بوس کر دیا۔ چند ماہ قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا انڈر پاس مسلسل بارش کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور اس کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

بارش کے بعد انڈر پاس کی تباہی

سیکٹر H-9 اور G-9 کو جوڑنے والا یہ انڈر پاس "سگنل فری اسلام آباد" منصوبے کا حصہ تھا، جسے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بڑی دھوم دھام سے افتتاح کیا تھا۔ تاہم، صرف ایک دن کی مسلسل بارش کے بعد انڈر پاس کی زمین بیٹھ گئی، سڑک میں دراڑیں پڑ گئیں اور پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تعمیراتی معیار پر سوالیہ نشان

ذرائع کے مطابق، بارش کے 14 سے زائد گھنٹوں میں مسلسل پانی زمین میں جذب ہوتا رہا، جس سے انڈر پاس کے ارد گرد کی زمین کمزور پڑ گئی۔ دیواروں میں دراڑیں، فرش کے نیچے مٹی کا بہاؤ، اور اطراف کی بنیادیں غیر محفوظ ہو گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے اس نئی تعمیر کی ناقص منصوبہ بندی اور نازک بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

شہریوں نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومتی لاپرواہی اور بدعنوانی کی مثال قرار دیا۔ بیشتر افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر حالیہ بارشوں کو ’غیر معمولی‘ تسلیم بھی کیا جائے، تب بھی ایک نئے تعمیر شدہ انڈر پاس کا یوں زمین بوس ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

کئی دہائیوں کی شدید ترین بارش

محکمہ موسمیات کے مطابق، اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ کئی دہائیوں کی طویل ترین اور مسلسل 18 گھنٹے جاری رہنے والی بارش ریکارڈ کی گئی۔ مرگلہ پہاڑیوں کے اطراف ہونے والی موسلا دھار بارش نے نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا کر دیا اور متعدد انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس کو متاثر کیا۔

حکام کی خاموشی پر سوالات

تاحال ضلعی انتظامیہ یا ترقیاتی ادارے کی جانب سے انڈر پاس کے منہدم ہونے پر کوئی تفصیلی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ البتہ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ منصوبے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔