اسرائیل کے شہر حیفہ میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد صورتحال انتہائی سنگین رہی، جہاں امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے چار افراد کی لاشیں نکالیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
پیر کی رات سے لبنان اور ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متواتر حملے کیے جا رہے ہیں۔حیفہ میں ایک ایرانی میزائل نے عمارت پر براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے ملبے سے دو افراد کو فوراً مردہ حالت میں نکالا گیا، جبکہ بعد میں ایک 40 سالہ مرد اور 35 سالہ خاتون کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ آخری لاش تقریباً 18 گھنٹے بعد نکالی گئی۔ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ عمارت شدید نقصان کا شکار تھی اور گرنے کا خطرہ موجود تھا، جس نے امدادی کارروائی کو پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا۔میزائل وارہیڈ میں سیکڑوں کلوگرام بارودی مواد موجود تھا، تاہم یہ پھٹنے سے رہ گیا۔ لیکن شدید کائنیٹک انرجی کی وجہ سے عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔ اگر وارہیڈ پھٹ جاتا تو آس پاس کے مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو سکتے تھے۔حملے کے بعد امدادی ٹیمیں اور فورسز متاثرہ علاقوں جیسے رامات گان، گیوا ٹائم، بنی بریک میں موجود ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔
ہلاکتیں اور نقصان:
فروری 2026 کے بعد سے ایران نے 500 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، جن میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے۔زیادہ تر لوگ بم شیلٹرز میں موجود تھے، جس کی وجہ سے جانیں بچ گئیں، تاہم جو لوگ محفوظ کمروں میں نہیں تھے وہ ہلاک ہوئے۔مختلف سمتوں سے متواتر حملوں کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز اکثر ناکام ہو رہے ہیں۔
حملوں کا پس منظر:
ایرانی حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ہو رہے ہیں، اور متعدد شہروں میں چھوٹے دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔یہ حملے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کارکردگی اور شہری سیکیورٹی پر بڑا دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کو جنگ کے دوران سب سے مشکل آپریشن قرار دیا ہے۔