اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پُرعزم اور حوصلے میں ہیں۔
انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔
خواتین کو نشانہ بنانا قابل مذمت:
فیصل چوہدری نے بشریٰ بی بی کے بارے میں کہا کہ وہ حوصلے کے ساتھ کھڑی ہیں اور عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے مشکلات برداشت کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی مذمت کی۔
القادر یونیورسٹی پر قبضے کی مذمت:
انہوں نے پنجاب حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی پر پولیس کے ذریعے قبضہ کیا گیا، جو ناقابل قبول ہے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ یہ یونیورسٹی غریبوں کی امانت ہے اور اسے کسی بھی صورت حکومتی یا سیاسی خاندان کے قبضے میں نہیں جانے دیا جائے گا۔
احتجاجی حکمت عملی:
فیصل چوہدری نے اعلان کیا کہ عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ہدایت دی ہے کہ 8 فروری کو خیبر پختونخوا سے قافلے پشاور میں جمع ہوں اور شٹرڈاؤن کریں۔ دیگر صوبوں کے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدیدار بھی یوم سیاہ میں بھرپور حصہ لیں گے۔
جمہوریت اور آئین کی پاسداری:
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جمہوریت، آزاد عدلیہ، اور بنیادی شہری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ فیصل چوہدری نے نیوٹرل امپائرز کے ساتھ کھیلنے اور انصاف کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
الزامات اور جوابی تنقید:
انہوں نے حکومت پر سیاسی انتقام اور پروپیگنڈا کرنے کا الزام عائد کیا، اور کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ جھوٹ اور حقیقت کا پردہ فاش ہو۔فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان آخری گیند تک کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور کسی جبر یا آمرانہ رویے کے آگے نہیں جھکیں گے۔