ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات کی بنیاد صرف وعدوں کی پاسداری پر ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق، اگر فریقین اپنے وعدوں کا احترام نہ کریں تو بات چیت کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔انہوں نے خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے رویے اور پالیسیوں کی وجہ سے ایران میں گہرا تاریخی عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں امریکی حکام کا غیر تعمیری اور متضاد رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے جھکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کی عوام کسی بھی صورت جبر یا دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی، اور ملک اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور سفارتی تناؤ بدستور برقرار ہے، اور عالمی سطح پر ان تعلقات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔