عمران خان کو جیل حکام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، فیصل چوہدری

عمران خان کو جیل حکام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، فیصل چوہدری

راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیل حکام کے رحم و کرم پر تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔

 فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کے آرڈر اور پاور آف اٹارنیز جیل انتظامیہ کو بھجوائے گئے ہیں، اور انڈر ٹرائل قیدیوں تک وکلا کی رسائی کو روکا نہیں جا سکتا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال اکتوبر میں بھی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس پر عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ آج کیس کی سماعت جج کی چھٹی کی وجہ سے 26 اور 27 فروری تک ملتوی کر دی گئی، جو کہ ایک اہم کیس کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنے دن تک عمران خان کی وکلا اور فیملی سے ملاقاتوں کا روکا جانا ایک سنگین مسئلہ ہے۔فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات ہو تاکہ پی ٹی آئی کارکنان کو ان کی صحت اور زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے اور بتایا جا سکے کہ وہ ٹھیک ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل حکام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔قبل ازیں، عمران خان کے وکیل عرفان نیازی نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وکلا کی ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد بیرسٹر سلمان اکرم راجا، عرفان نیازی، اور نعیم حیدر پنجوتھہ ملاقات کے لیے جیل روانہ ہو گئے۔یہ درخواست اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ کی عدالت میں سنی گئی۔