جنوبی کوریا میں صدر یون سک یول کے دفتر پر پولیس نے مارشل لاء کے نفاذ سے متعلق تحقیقات کے دوران دوسری بار چھاپہ مارا۔
پولیس نے اس کارروائی میں مبینہ شواہد اور دستاویزات قبضے میں لیں۔ مارشل لاء کی مختصر مدت کے دوران صدر نے اسے آئینی اختیار کے تحت قرار دیا تھا، لیکن پارلیمنٹ کی مخالفت کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں نے صدر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان کے مواخذے کی تحریک پیش کی ہے، جس پر ہفتے کے روز ووٹنگ متوقع ہے۔ اپوزیشن کو تحریک منظور کرنے کے لیے چند انحرافی ووٹوں کی ضرورت ہے، جبکہ صدر یون نے اس کے خلاف آخر تک لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکمران جماعت کے کچھ اراکین بھی ان کے خلاف ہو چکے ہیں، لیکن پارٹی نے مواخذے کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ ممکنہ افراتفری کو روکا جا سکے