اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ انہیں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو لکھے گئے خطوط واپس لینے کی ہدایت کی گئی، جنہیں محکموں نے وصولی کے دستخط کے ساتھ واپس کر دیا۔
فوزیہ صدیقی نے عدالت میں اپنے اعلیٰ حکام کو بھیجے گئے خطوط اور ان کی واپسی کا ریکارڈ پیش کیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا بی کیٹیگری ویزا منظور ہو چکا ہے مگر پاسپورٹ واپس نہیں کیا جا رہا، جس پر عدالت نے وزارت خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ فوزیہ صدیقی کا پاسپورٹ واپس کریں اور ان کا امریکی ویزا بھی یقینی بنوائیں۔عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستانی وفد نے پانچ روز کی تاخیر کے بعد امریکہ کا دورہ کیا، تاہم وہاں کوئی ملاقات نہیں کی گئی۔ اسمتھ نے بتایا کہ عافیہ سے ملاقات کے لیے وفد کی واپسی کا وقت آ گیا ہے، اور عدالت سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزا کب تک ملے گا۔
عدالت نے حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ وزارت خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزا امریکی ایمبیسی نے منظور نہیں کیا، لیکن انہیں امید ہے کہ جلد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت اگلے جمعہ تک ملتوی کر دی اور وزارت خارجہ کو ڈاکٹر فوزیہ کا ویزا فراہم کرنے کی یقینی ہدایت دی۔