میاں شہزاد طفیل
پاکستان میں خصوصی سہولت کی حقیقت پاکستان میں قیدیوں کے صحت کے حقوق ہمیشہ قانونی اور عدالتی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ خاص طور پر عمر رسیدہ قیدیوں کے معاملے میں یہ معاملہ حساسیت اختیار کر لیتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ آنکھوں کی روشنی کم ہو جاتی ہے، دل، گردے، جوڑ اور دیگر اعضاء میں بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق 70 سال سے اوپر کی عمر میں آنکھوں کی بینائی عام طور پر 40÷ سے 70÷ تک رہتی ہے، اور اگر شدید بیماری یا جراحی نہ ہو تو یہ اور بھی کم ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں قیدیوں کے طبی حقوق کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہے۔ Prisons Act 1894 اور Pakistan Prisons Rules 1978 اس فریم ورک کی بنیاد ہیں۔ قوانین کے مطابق جیل انتظامیہ پر یہ فرض ہے کہ ہر قیدی کا طبی معائنہ کیا جائے۔ جیل میں ڈاکٹر اور طبی عملہ موجود ہونا لازمی ہے۔ بیماری کی صورت میں فوری علاج فراہم کیا جائے۔ ضرورت پڑنے پر قیدی کو جیل ہسپتال یا سرکاری ہسپتال منتقل کرنا بھی قانون کی ذمہ داری ہے۔ جیل انتظامیہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ قیدی کی صحت کے ریکارڈ محفوظ اور درست رکھے جائیں۔
تاہم ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے قوانین میں قیدی کو ذاتی یا پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کروانے کا کوئی واضح حق نہیں دیا گیا۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی صرف عدالت کے خصوصی حکم سے ممکن ہے۔ عدالت ایسے احکامات اس وقت دیتی ہے جب قیدی کی بیماری سنگین ہو یا جیل کے ڈاکٹر علاج فراہم کرنے میں محدود ہوں۔ عدالتی حکم کے بغیر جیل میں ذاتی ڈاکٹر لانا قوانین کے مطابق ممکن نہیں۔
عدالتی رویہ واضح کرتا ہے کہ جیل کی فراہم کردہ طبی سہولت بنیادی علاج کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ ماضی میں کچھ سیاستدانوں کے کیسز میں عدالت نے محدود اور مخصوص اجازت دی، مگر یہ ہمیشہ صحت کی سنگینی اور انسانی حقوق کے تناظر میں تھا۔ یہ اجازت قوانین میں شامل نہیں بلکہ عدالتی اختیار کی بنیاد پر دی گئی۔
یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ قیدیوں کے حقوق اور سہولتیں بنیادی قانونی فریم ورک میں یقینی ہیں، لیکن ذاتی ڈاکٹر یا خصوصی علاج عدالت کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر قیدی کو مناسب اور فوری علاج دیا جانا چاہیے، مگر خصوصی سہولت عدالت کی مرضی اور انسانی ہمدردی پر منحصر ہے۔ پاکستان میں یہ حقیقت انسانی حقوق، عمر رسیدہ قیدیوں کی دیکھ بھال، اور عدالت کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔
قانون بنیادی علاج کا حق دیتا ہے، مگر ذاتی ڈاکٹر یا خصوصی سہولت صرف عدالت کے حکم سے ممکن ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ صحت کے حقوق صرف کاغذ پر نہیں بلکہ عدالتی عمل، انسانی ہمدردی اور ضرورت کے تناظر میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔