سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
تاہم اتنی بات معتبرفقہی فیصلوں سے واضح ہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ قرنیے کی پیوندکاری کے جوازکی مضبوط اورباوقارعلمی بنیاد موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی انتظامی فیصلے کومحض اسلام کافیصلہ کہہ کرپیش کرنا،جبکہ معتبراسلامی ادارے مختلف رائے رکھتے ہوں،دنیاکے سامنے اسلامی علم کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔قرآنِ مجید اللہ تعالی کی طرف بلادلیل بات منسوب کرنے سے خبردارکرتا ہے:اپنی زبانوں سے جھوٹ گھڑتے ہوئے یہ نہ کہوکہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے،تاکہ تم اللہ پرجھوٹ باندھو۔{النحل:116}
یہ آیت مذہبی حکم بیان کرنے میں بڑی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔کسی سنجیدہ فقیہ کادلائل کے ساتھ مختلف رائے اختیارکرنا ایک بات ہے؛مگرکسی پیچیدہ طبی مسئلے میں تمام دوسری معتبرآراکونظراندازکرکے اپنی انتظامی رائے کواسلام کاواحدممکنہ مقف بنا کرپیش کرنادوسری بات ہے۔
اگرافغان حکام کے پاس قرنیے کی پیوند کاری پرکسی خاص اعتراض کی شرعی یاطبی بنیادموجودہے تواسے شفاف اندازمیں شائع کیاجانا چاہیے۔اس میں یہ بھی واضح ہوکہ اعتراض اعضا کی خریدوفروخت،رضامندی،موت کی تشخیص یاطریق علاج کی کسی اورصورت سے متعلق ہے۔دلیل سامنے آئے گی تواہلِ علم اورطبی ماہرین اس کاجائزہ لے سکیں گے،اور مریض بھی جان سکیں گے کہ ان کے علاج کا مستقبل کیاہے۔قرآنِ مجید عدل کواجتماعی زندگی کی بنیادقراردیتاہے:
بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔{النحل:90}
عدل کاتقاضاصرف قانون نافذکرنانہیں،بلکہ قانون کے اثرات کوبھی دیکھناہے۔اگرکسی حکم سے ایک غریب مریض اس علاج سے محروم ہوجائے جواسے دوبارہ دیکھنے میں مدد دے سکتاہے،توفیصلہ سازوں پرلازم ہے کہ وہ اس محرومی کے جوازکومضبوط دلائل کے ساتھ واضح کریں۔
سور النسامیں انصاف پرمضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کی گئی ہے،خواہ اس کیلئیاپنے خلاف یااپنے قریبی لوگوں کے خلاف ہی بات کیوں نہ کہنی پڑے۔ یہ اصول حکمرانوں اوران کے ناقدین،دونوں پریکساں لاگوہوتاہے:
اے ایمان والو!انصاف پرقائم رہواورخداکیلئے سچی گواہی دوخواہ(اس میں)تمہارایاتمہاریماں باپ اوررشتہ داروں کانقصان ہی ہو۔ {النسا:4-135}
اسی لیے طالبان کی پالیسی کاجائزہ لیتے وقت دوباتیں بیک وقت کہی جاسکتی ہیں،انسانی اعضاکی خریدوفروخت اورغریب افرادکے استحصال پرتشویش جائزہے؛اورایسے استحصال کوروکنے کے نام پرتمام رضاکارانہ،ضابطہ بنداورطبی اعتبارسے مناسب پیوندکاری بند کردیناایک الگ فیصلہ ہے،جس کے انسانی نتائج کاجواب دیناضروری ہے۔
اگرحکمران اسلام کے نام پررحم،عدل اورعوام کی خدمت کادعوی کریں،لیکن کسی قابلِ علاج مریض کومعتبرشرعی جوازرکھنے والے علاج سے روک دیں،توان کے دعوے اوراس پالیسی کے اثرات کے درمیان واضح تضادپیداہوتاہے۔یہ فیصلہ سخت تنقیدکامستحق ہے۔البتہ کسی ایک خبرکی بنیادپران کیتمامقول وفعل کے بارے میں حتمی فیصلہ صادرکرناتحقیقی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
اعضاکے عطیے پرمذہبی تحفظات کومذاق یابے حسی کے ساتھ ردنہیں کرناچاہیے۔اسلام میں میت کااحترام حقیقی اہمیت رکھتاہے۔بہت سے خاندان اپنے عزیزکے جسم کے بارے میں جذباتی اوردینی حساسیت رکھتے ہیں،اوران کے احساسات کالحاظ ضروری ہے۔تاہم میت کا احترام اورمریض کی مددلازماایک دوسرے کی ضدنہیں۔جوازدینے والے فقہانے اسی توازن کوقائم کرنے کی کوشش کی ہے۔موت کی معتبر تصدیق،رضامندی،احترام کے ساتھ طبی عمل،معقول فائدے کی امیداورانسانی اعضا کی تجارت سے اجتناب۔
ایک ذمہ دار نظام میں عطیہ دینے کافیصلہ آزادانہ ہو،خاندان پردبانہ ڈالاجائے،اعضاکے حصول اوراستعمال کاریکارڈرکھاجائے اور مستحق مریضوں کے انتخاب میں انصاف ہو۔ جہاں کسی شخص یاخاندان کودینی تحفظ ہو،اسے اپنے ضمیرکے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے۔یہ اصول بیک وقت انسانی جسم کی حرمت،مریض کی ضرورت اورخاندان کے وقارکالحاظ کرتے ہیں۔فراہم کردہ خبرمیں کابل کے ایک گنے کارس فروخت کرنے والے شخص کاذکرہے جوگیس سلنڈرکے دھماکے میں اپنی بینائی کھوبیٹھا۔ خبرکے مطابق اسے آپریشن کی امیددلائی گئی،لیکن بعدمیں بتایاگیاکہ پروگرام بندہوچکاہے۔اسی طرح جلال آبادکی ایک خاتون نے اخبارکو بتایاکہ وہ آنکھ کی چوٹ کے علاج کیلئے رجسٹر ہوئی تھیں، مگر ہسپتال کوپروگرام روکنے کی ہدایت دی گئی۔
ان واقعات کی انفرادی طورپرآزادانہ تصدیق اس رپورٹ کیلئے نہیں ہوسکی،لیکن یہ اس نوعیت کے فیصلوں کے ممکنہ انسانی اثرات کو سمجھنے میں مدددیتے ہیں۔کسی مریض کیلئے نظرکی بحالی کامطلب کام پرواپسی،تعلیم جاری رکھنا،گھروالوں کوپہچاننایاروزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختاری حاصل کرناہوسکتاہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ بینائی سے محروم افرادکی زندگی کو کمترقرارنہ دیاجائے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ مریض کوممکنہ علاج،درست معلومات اوراپنے بارے میں باوقارفیصلہ کرنے کاموقع ملناچاہیے۔
افغانستان جیسے ملک میں،جہاں طبی وسائل محدود ہیں اوربیرونِ ملک علاج بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہرہوسکتاہے،ایک مفت طبی پروگرام کی بندش کااثرخاص طورپر غریب مریضوں پرپڑسکتاہے۔برطانوی حکومت کی افغانستان کے طبی نظام سے متعلق معلومات بھی سہولتوں،عملے اورعلاج تک رسائی کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جب کسی ملک کاحکمران طبقہ اپنے فیصلوں کواسلام کے نام سے منسوب کرتاہے،توان فیصلوں کی بازگشت اس ملک کی سرحدوں سے باہربھی سنائی دیتی ہے۔دنیابھرکے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیااسلام واقعی ایسے علاج کی مخالفت کرتاہے؟اگرمکمل صورتِ حال نہ بتائی جائے توایک انتظامی پابندی کوپورے دین کی تعلیم سمجھ لیاجاتاہے۔اس سے وہ مسلمان بھی متاثر ہوتے ہیں جودنیابھرمیں طبی خدمت، فلاحی کام،تحقیق اورمریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔
اسلام کامؤثردفاع یہ نہیں کہ ہرمسلمان حکمران کے ہرفیصلے کادفاع کیاجائے۔زیادہ ذمہ دارانہ راستہ یہ ہے کہ جب کسی پالیسی پرسوال اٹھے تواسے قرآن،سنت،معتبرفقہی آرا اور اس کے عملی نتائج کی روشنی میں پرکھاجائے۔معتبرمسلم فقہی اداروں کی جانب سے مشروط اجازت اس بات کاثبوت ہے کہ اسلامی روایت میں علاج،انسانی بھلائی اورجدیدطبی تحقیق کیلئے سنجیدہ گنجائش موجودہے۔دنیاتک یہ بات پہنچاناضروری ہے کہ کسی ایک حکومت یاگروہ کی تعبیرتمام مسلمانوں کی واحدآوازنہیں۔
اسی طرح طالبان کی کسی پالیسی پرتنقیدکوافغان عوام یاعام مسلمانوں کے خلاف نفرت کاجوازبنانابھی ناانصافی ہوگی۔افغان مریض،ڈاکٹر، علمااورفلاحی کارکن خوداس بحث کے اہم فریق ہیں اوران کی آوازسنی جانی چاہیے۔
اگرخبرمیں بیان کردہ پابندی نافذہے تواس پرنظرثانی کیلئے چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
حکم اوراس کی بنیاد شائع کی جائے،واضح کیاجائے کہ پابندی کن صورتوں پرہے،کس اتھارٹی نے جاری کی اوراس کے پیچھے شرعی و طبی دلائل کیا ہیں۔مشترکہ علمی جائزہ لیا جائے۔
افغان اوردوسرے مسلم علما،ماہرینِ چشم،طبی اخلاقیات کے ماہرین اورمریضوں کے نمائندے مل کرمعاملے کاجائزہ لیں۔
اعضا کی تجارت اورجائزعطیے میں فرق کیاجائے،غیرقانونی خریدوفروخت،دبااوراستحصال روکاجائے،جبکہ جائزاوررضاکارانہ موت عطییکیلئیواضح ضابطہ بنایاجائے۔رضامندی اورحرمت کاتحفظ کیاجائے،معتبرتصدیق،مناسب اجازت،میت کے احترام اورطبی نگرانی کولازمی بنایاجائے۔مریضوں کیلئیفوری راستہ فراہم کیاجائے،جن افرادکے آپریشن رکے ہوئے ہیں،انہیں واضح معلومات،مناسب طبی معائنہ اوردستیاب متبادل علاج فراہم کیاجائے۔
فیصلوں کاآزادانہ جائزہ ممکن ہو،مریض اورڈاکٹر انتظامی فیصلوں پرسوال اٹھاسکیں اورمتعلقہ حکام کے سامنے اپنامقف پیش کرسکیں۔یہ اقدامات محض طبی انتظام نہیں بلکہ شفافیت ، انصاف اورانسانی ضرورت کوسنجیدگی سے لینے کاتقاضا ہیں۔
قرآن وسنت انسان کی حرمت،علاج کی اہمیت،عدل اورذمہ دارانہ فیصلے کی بنیادفراہم کرتے ہیں۔بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی اوراردن کے محکمہ افتاکے فیصلے یہ دکھاتے ہیں کہ وفات یافتہ عطیہ دہندہ سے قرنیے کی پیوند کاری کومخصوص شرائط کے تحت جائز سمجھنے کی معتبرشرعی رائے موجود ہے۔لہذااگرافغانستان میں اس نوعیت کی تمام پیوندکاری محضغیراسلامی قراردے کرروک دی گئی ہے،تواس فیصلے کواسلام کی متفقہ تعلیم کہنادرست نہیں۔اسے چیلنج کرنادین کی مخالفت نہیں،بلکہ دین کے نام پرکیے جانے والے فیصلے کوخوداس کے عدل، رحمت اورعلمی ذمہ داری کے معیارپرپرکھناہے۔
افغانستان کے مریضوں کونظریاتی کشمکش کابے آوازموضوع بنانے کی بجائے ان کی تکلیف،وقاراورعلاج کی ضرورت کوفیصلہ سازی کے مرکزمیں رکھاجاناچاہیے۔اسلام کی بہتر نمائندگی اسی وقت ہوگی جب اس کے نام پرکیے گئے فیصلے دلیل کے ساتھ پیش ہوں اوران میں انسانوں کیلئے انصاف اوربھلائی واضح نظرآئے۔