بینائی کے قیدی

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
افغانستان میں بینائی کی بحالی کیلئے قرنیے کی پیوند کاری روکنے کی خبر نے ایک بنیادی سوال کوپھرنمایاں کردیاہیکیااسلام کسی ایسے طبی عمل کی مخالفت کرتاہے جومناسب شرائط کے ساتھ ایک انسان کی بینائی بحال کرنے کاذریعہ بن سکتاہو؟اس سوال کاجواب تلاش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کسی حکومت کے دعوے کواسلامی تعلیمات کاآخری نمائندہ نہ سمجھاجائے،بلکہ قرآن، سنت،مسلم فقہاکی آرااورطبی حقائق کاجائزہ لیا جائے۔اس جائزے سے واضح ہوتاہے کہ قرنیے کی پیوندکاری کومطلقااوربلاشرط غیر اسلامی قرار دینا درست نہیں۔متعددمعتبراسلامی فقہی اداروں نے بعض شرائط کے تحت اسے جائز قراردیاہے۔اگرافغان حکام نے جائزاوررضاکارانہ عطیے پرمبنی قرنیے کی پیوند کاری کوبھی مکمل طور پر روک دیاہے تواس فیصلے پرشرعی، اخلاقی اورانسانی بنیادوں پرسنجیدہ اعتراض اٹھتاہے۔اسلامی حکومت کادعوی کرنے والے حکمرانوکیلئے ضروری ہے کہ ان کے فیصلوں میں عدل ، رحمت،انسانی وقاراورمریضوں کی ضرورت بھی نمایاں ہو۔
برطانیہ کے مشہورِزمانہ اخبار دی ٹیلیگراف میں27/اکتوبر2026کوشائع ہونے والی خبرکے مطابق افغان ڈاکٹروں اورمریضوں کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ افغان طالبان کی ہدایات کے بعدقرنیے کی پیوندکاری کے آپریشن روک دیے گئے۔اس رپورٹ میں اس خبر کاجائزہ قرآن،سنت اورمعتبراسلامی فقہی اداروں کی آراکی روشنی میں لیناضروری ہے تاکہ اسلام کے بارے میں گمراہ کن اقدامات کابروقت تدارک ہو سکے۔
فراہم کردہ مضمون کے مطابق طالبان نے اس طریق علاج کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے افغان ڈاکٹروں کوقرنیے کی پیوندکاری کے آپریشن روکنے کی ہدایت کر دی ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ حکام نے اس طریق علاج کواسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیاہے،جس کے نتیجے میں بینائی سے محروم یااس کے خطرے سے دوچارمریض متاثرہوئے ہیں۔کابل کے نورآئی ہسپتال کے ڈاکٹرنورزمان ہاشم کے مطابق ان کے عملے نے پروگرام بندہونے سے پہلے حالیہ مہینوں میں پیوند کاری کے 90آپریشن کیے تھے ۔ انہوں نے اخبارکوبتایاکہ منتظرمریضوں میں ایسے نوجوان شامل تھے جن کی بینائی دھماکوں،زخموں اورویلڈنگ کے حادثات سے متاثرہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکامیں قائم پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی فلاحی تنظیم اے پی پی این اے نے افغانستان میں مفت قرنیے فراہم کرنے اورمقامی ڈاکٹروں کی تربیت میں مدددی۔تنظیم کے حوالے سے کہاگیاکہ اس پروگرام کے تحت افغانستان میں150 سے زیادہ آپریشن کیے گئے۔
ایک الگ رپورٹ میں2024کے دوران افغانستان میں اعضاکی تجارت اورپیوند کاری پرطالبان کی پابندی کی اطلاع دی گئی تھی۔طالبان کی وزارت نے انسانی اعضاکی خریدو فروخت کوانسانی وقارکے خلاف قراردیاتھا۔تاہم اس پرانی رپورٹ سے قرنیے کے بارے میں بعدکے مخصوص اورمبینہ زبانی حکم کی تمام تفصیلات ثابت نہیں ہوتیں۔یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ انسانی اعضاکی غیرقانونی تجارت روکنااور رضامندی وطبی نگرانی کے تحت علاج کی اجازت دینادوالگ معاملات ہیں۔پہلے مسئلے کاحل دوسرے پرغیرضروری پابندی نہیں ہونا چاہیے۔
قرآنِ مجیدانسانی جان،عزت اورفلاح کوبڑی اہمیت دیتاہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے
 اوربے شک ہم نے اولادِ آدم کوعزت بخشی{الاسرا:70}
یہ اعزازکسی ایک قوم،زبان یاطبقے تک محدودنہیں۔ایک زخمی افغان،ایک نابینابچہ،ایک مزدوراورایک بوڑھی خاتونسب انسانی عزت کے حق دارہیں۔بینائی سے محروم ہونابذاتِ خودانسان کی عزت یاقدرمیں کوئی کمی نہیں کرتا۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے فردکے وقار،حقوق اورمعاشرے میں اس کی شرکت کااحترام کیا جائے ۔اسی کے ساتھ،جب کوئی محفوظ اورمناسب علاج ممکن ہوتومریض کواس تک رسائی فراہم کرنابھی اس کی ضرورت اوراختیارکااحترام ہے۔
قرآن میں ایک انسانی جان کی حفاظت کی اہمیت یوں بیان ہوئی ہے
اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔{المائدہ:32}
اس آیت کابراہِ راست موضوع انسانی جان کی حرمت ہے۔قرنیے کی پیوندکاری کوبلاامتیازجان بچانے کاعمل کہنادرست نہ ہوگا،کیونکہ اس کابنیادی مقصدعمومابینائی بحال کرنایا محفوظ رکھناہوتاہے۔تاہم انسانی جان کی قدرکے اس قرآنی اصول سے انسانی بھلائی اورشدیدنقصان سے بچانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔بینائی کی بحالی بھی ایک اہم انسانی فائدہ ہے،جسے فقہانے اپنے اجتہادی فیصلوں میں اہمیت دی ہے۔
اسلام مریض کومحض بیماری برداشت کرنے کی تلقین تک محدودنہیں رکھتا،بلکہ مناسب علاج اختیارکرنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔
حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺسے علاج کے بارے میں پوچھاتوآپﷺنے فرمایا:
علاج کرو،کیونکہ اللہ تعالی نے بیماری کے ساتھ اس کاعلاج بھی رکھاہے،سوائے بڑھاپے کے۔{سنن ابی داد3855}
اس حدیث سے علاج کی عمومی ترغیب ملتی ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ ہرنیاطبی طریقہ خودبخودہرحالت میں جائزہوجاتاہے؛ہرطریقے کے فوائد،نقصانات اورشرعی حدودکوبھی دیکھا جائے گالیکن محض اس وجہ سے کہ کوئی علاج جدیدہے یارسول اللہﷺکے دورمیں موجود نہیں تھا،اسے غیراسلامی نہیں کہاجاسکتا۔
قرنیے کی پیوند کاری ایک جدید طبی طریقہ ہے۔اس کے جوازپرگفتگوکرتے ہوئے سوال یہ ہوناچاہیے کہ قرنیہ کس ذریعے سے حاصل ہوا ،عطیہ دینے والے یامتعلقہ ورثاکی رضا مندی موجودتھی یانہیں،موت کی تصدیق ہوئی یانہیں،اورمریض کوفائدے کی معقول امیدہے یانہیں۔ یہی وہ سوالات ہیں جنہیں معتبرفقہی اداروں نے اپنے فیصلوں میں پیشِ نظر رکھاہے۔
جدہ میں قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے،جواسلامی تعاون تنظیم سے وابستہ ہے،فروری1988میں انسانی اعضاکی پیوندکاری کے بارے میں ایک اہم قرارداد منظور کی۔ قراردادنمبر26(1/4)میں قرنیے کوصراحت کے ساتھ انسانی اعضااوربافتوں کی بحث میں شامل کیا گیا۔اکیڈمی نے قراردیاکہ وفات پانے والے شخص کے جسم سے عضوکسی زندہ انسان کومنتقل کیاجاسکتاہے،اگراس سے زندگی بچانے یا جسم کے کسی بنیادی فعل،مثلابینائی،کی بحالی میں مددملتی ہو۔اس کیلئیمتعلقہ شرائط میں مرحوم کی زندگی میں اجازت،یاوفات کے بعد ورثاکی اجازت شامل ہے؛نامعلوم یابے وارث میت کے معاملے میں متعلقہ ذمہ دارحکام کی اجازت کابھی ذکرکیاگیاہے۔یہ فیصلہ ایک اہم بات واضح کرتاہے۔معتبرمسلم فقہاکے نزدیک بینائی کی بحالی ایسی ضرورت ہوسکتی ہے جس کیلئے مخصوص شرائط کے تحت وفات یافتہ عطیہ دہندہ کاقرنیہ استعمال کرناجائزہو۔
اسی قراردادنے انسانی جسم کی حرمت کوبھی نظراندازنہیں کیا۔اس نے انسانی اعضاکی خریدوفروخت کی ممانعت بیان کی اوریہ بھی کہا کہ کسی زندہ شخص سے ایساعضویااعضالینا جائز نہیں جس سے اس کابنیادی جسمانی فعل ختم ہوجائے؛مثال کے طورپردونوں آنکھوں کے قرنیے لے لینا۔یوں یہ رائے مریض کے فائدے کے ساتھ عطیہ دینے والے کے حقوق کاتحفظ بھی کرتی ہے۔لہذاقرنیے کی پیوندکاری کے بارے میں شرعی بحث کومحضجائزیاناجائزکے دوغیرمشروط خانوں میں رکھ دینااس پیچیدہ مسئلے کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔
اردن کے سرکاری محکمہ افتانے بھی وفات کے بعدقرنیے کے عطیے اورپیوند کاری کی اجازت دی ہے۔اس کے فیصلے میں چندشرائط نمایاں ہیں:
٭عطیہ دینے والے کی موت کی تصدیق ہو۔
٭ڈاکٹروں کے نزدیک آپریشن کی کامیابی کی غالب امیدہو۔
٭مرحوم نے اپنی زندگی میں اجازت دی ہویااس کے ورثااجازت دیں۔
محکمہ افتانے اس رائے کی بنیادانسانی بھلائی،نقصان دورکرنے اورمیت وزندہ انسان دونوں کے احترام پررکھی۔اس کے مطابق مناسب شرائط کے ساتھ قرنیہ عطیہ کرناایسی بے حرمتی نہیں جس کامقصدمیت کوذلیل کرناہو۔یہ رائے اس دعوے کے برعکس ہے کہ قرنیے کی ہرپیوندکاری لازمااسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔اس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ اسلامی فقہ جدیدطبی مسائل سے سنجیدہ علمی گفتگواور انسانی ضرورت کوپیشِ نظررکھتے ہوئے معاملہ کرسکتی ہے۔
دیانت دارانہ تحقیق کاتقاضاہے کہ اس مسئلے پرموجوداختلاف کوبھی تسلیم کیاجائے۔بعض مسلم اہلِ علم انسانی جسم کی حرمت،موت کی تشخیص،رضامندی اوراعضاکے استعمال سے متعلق تحفظات کی بناپرعطیے یاپیوندکاری کی بعض صورتوں سے اختلاف کرتے ہیں۔
برطانیہ کے قومی ادار صحت سے وابستہ ادارے این ایچ ایس بلڈاینڈٹرانسپلانٹ نے بھی واضح کیاہے کہ مسلم علماکے درمیان اعضاکے عطیے پرمختلف آراپائی جاتی ہیں۔اس لیے یہ کہنادرست نہیں ہوگاکہ تمام مسلم علماہرنوعیت کی پیوندکاری کے جوازپرمتفق ہیں۔(جاری ہے)