خصوصی سکولوں میں اساتذہ اور بچے کیمروں کے قیدی

فاطمہ غنی
سکول کا ماحول اگر سازگار نہ ہو تو معمار کس طرح بچوں کو آزادانہ طور پرتعلیم دے کر انکی کردار سازی کر سکتا ہے‘ذرائع کے مطابق محکمہ خصوصی تعلیم پنجاب کی جانب سے خصوصی سکولوں کے کلاس رومز میں CCTV کیمروں کی تنصیب نے نہ صرف اساتذہ بلکہ معصوم سپیشل بچوں کو بھی شدید ذہنی دبائوور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔اساتذہ، بالخصوص خواتین ٹیچرز کا کہنا ہے کہ اب انہیں پڑھانے سے زیادہ اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ ان کے لباس، دوپٹے یا حرکات پر کوئی نکتہ چینی نہ ہو جائے۔ ہر وقت کی نگرانی نے تدریسی ماحول کو خوف اور گھٹن میں بدل دیا ہے۔---
خصوصی اداروں میں کیمرے متنازع۔کیوں  ؟
ذرائع کے مطابق دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں کلاس رومز کے اندر کیمرے نصب نہیں کیے جاتے۔ وہاں کوریڈورز اور داخلی راستوں پر نگرانی کا نظام رکھا جاتا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، مگر کلاس روم کے اندر ریکارڈنگ کو طلبہ و اساتذہ کی پرائیویسی کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔--
اساتذہ کا کہنا ہے کہ خصوصی تعلیمی ادارے عام اسکولوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، جہاں بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی ضروریات خصوصی توجہ چاہتی ہیں۔
ایک خاتون اْستاد کے مطابق ہر وقت اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں لباس یا دوپٹہ سرک نہ جائے، کہیں کیمرے میں کوئی غلط زاویہ نہ آجائے۔ پڑھانے کے بجائے اب ہر لمحہ خود کو سنبھالنا ہی ایک بوجھ بن گیا ہے۔"---کلاس روم میں بچوں کی تعداد بھی قانون کے خلافذرائع کے مطابق عالمی معیار کے برعکس پاکستان میں ایک ہی استاد کے ذمہ 30 تا 35 خصوصی طلبہ ہیں، 
حالانکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق:بہرے بچوں کے لیے 7 طلبہ پر ایک استاد ہوتا ہے‘
ذہنی طور پر معذور بچوں کے لیے 4 طلبہ پر ایک استاد مقرر ہونا چاہیے۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ پہلے ہی اتنے زیادہ بچوں کو پڑھانا مشکل ہے، اب کیمروں کے دبائونے ان کی کارکردگی مزید متاثر کر دی ہے۔-
قانونی اور آئینی پہلوقانونی ماہرین کے مطابق:
آئین پاکستان کا آرٹیکل 14 شہریوں کی عزت نفس اور پرائیویسی کی ضمانت دیتا ہے۔خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ ایکٹ 2010 کے تحت مسلسل ویڈیو نگرانی کو ہراسانی کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔PECA ایکٹ 2016 اور ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 دونوں ہی بغیر اجازت ا?ڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ اور اس کے استعمال کو قانونی جرم قرار دیتے ہیں۔---وفاقی محتسب (FOSPAH) کا حالیہ فیصلہ ستمبر 2025 میں سانیم افشین بنام اظہر عباس کیس میں FOSPAH نے واضح قرار دیا کہ ‘‘مسلسل نگرانی اور ویڈیو ریکارڈنگ 
خواتین ملازمین کے لیے نفسیاتی دبائو، خوف اور ہراسانی کے مترادف ہے۔’’اس فیصلے میں متاثرہ خاتون کو مالی معاوضہ اور ملزم کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا گیا
 — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ خصوصی تعلیم کا مو?قف قانونی طور پر کمزور ہے۔--
دیگر اہم مسائل نظراندازاساتذہ کا کہنا ہے کہ محکمہ نے اصل مسائل جیسے:بریل کتب اور قرآنِ مجید کی عدم فراہمی عملے کی کمی اور امتیازی رویہ ،تھراپی سہولیات کی کمی پر توجہ دینے کے بجائے کیمروں کے غیر ضروری معاملے کو ترجیح دے دی ہے۔یہ طرزِ عمل نہ صرف اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے بلکہ خصوصی بچوں کے بنیادی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔--
اساتذہ، والدین اور ماہرینِ تعلیم کا مطالبہ ہے 
1. کلاس رومز سے فوری طور پر کیمرے ہٹائے جائیں۔
2. اگر نگرانی ضروری ہے تو صرف کوریڈورز اور داخلی راستوں تک محدود کی جائے۔
3. اساتذہ اور طلبہ کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی تشکیل دی جائے