عنبرین خان
جدید دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ان کی بدولت دنیا ایک ’’عالمی گاؤں‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ معلومات تک فوری رسائی، رابطوں کی آسانی، تعلیم، کاروبار، طب، اور تفریح کے بے شمار مواقع انہی ذرائع سے وابستہ ہیں۔ مگر جہاں یہ نعمتیں ہیں، وہیں ان کے بے جا اور غیر متوازن استعمال نے خصوصاً نئی نسل کے اخلاق، ذہن، جسم اور معاشرتی رویّوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ایک وقت تھا جب شام ڈھلتے ہی گلیوں میں بچوں کی کلکاریاں گونجتی تھیں،کوئی لْک چھْپ کا کھیل کھیلتا، کوئی کرکٹ کی گیند ڈھونڈتا،اور لڑکیاں سہیلیوں کے ساتھ اپنے من پسند کھیل کھیلتں۔آج بھی وہی بچے ہیں، مگر اب ان کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں بلکہ موبائل فون کی ہیں ‘جس کے ایک کنارے پر ’’گیم‘‘، دوسرے پر ’’یوٹیوب‘‘، اور درمیان میں ’’ٹک ٹاک‘‘ چمک رہا ہے۔ اب بچے کہانیوں کی کتابیں نہیں پڑھتے ۔ دادی نانی آپا خالہ سے قرانی قصے سن کر نہیں سوتے بلکے موبائل فون کے ساتھ جاگنا پسند کرتے ہیں یہی وجہ ہے پاکستان میں آج نہ صرف نوجوان بلکہ آٹھ، نو سال کے چھوٹے بچے بھی اپنے ذاتی موبائل رکھتے ہیں۔
والدین، جنہیں چند لمحوں کی خاموشی ، سکوں چاہیے ہوتا ہے یا اپنے کام جلدی کرنے کی فکر ہوتی ہے اکثر بچے کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیتے ہیں ‘یوں ایک معصوم بچہ لمحہ بہ لمحہ ڈیجیٹل دنیا کا قیدی بنتا چلا جاتا ہے۔ابتدا میں تو سب کچھ بے ضرر لگتا ہے۔رنگ برنگی کارٹونز، مزاحیہ ویڈیوز، یا چھوٹی گیمز۔مگر آہستہ آہستہ یہ ذہنی انحصار میں بدل جاتا ہے۔بچے کے لیے اب حقیقی کھلونے، کتابیں، یا بات چیت دلچسپ نہیں رہتیں۔اس کا دماغ مسلسل تیز روشنی، شور اور حرکت کا عادی ہو جاتا ہے اور یہی عادت آگے چل کر توجہ کی کمی، غصے، ضد، نیند کی خرابی اور سماجی بے سمتی میں بدل جاتی ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ چھوٹے بچوں میں مسلسل سکرین دیکھنے سیدماغ کے ارتقائی حصے (cognitive areas) کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔بچوں کی یادداشت، تخیل اور ارتکاز کمزور ہونے لگتا ہے۔لمبے عرصے میں یہ عادت ڈپریشن، اکتاہٹ، اور تنہائی پسندی کو جنم دیتی ہے۔بچے، نوجوان ، اور مرد خواتین یہاں تک کے بزرگ بھی ٹاک ٹاک اور ریلیز میں محض پیسہ کمانے کے لیے اخلاق سے گری ہوء حرکات کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ ہماری معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اپنا قیمتی وقت ان ایپس کی نذر کر رہا ہے انہیں اندازہ تک نہیں ہے کہ یہ کوء صحت مند تفریح نہیں بلکہ دشمن جسم و جاں ہے۔جسمانی طور پر بھی اثرات کم نہیں ‘آنکھوں کی کمزوری، گردن اور کمر میں درد، موٹاپا،اور نیند کا نظام درہم برہم ہو جانا،یہ سب ان "خاموش نتائج" میں شامل ہیں جو روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔نوجوانوں کا معاملہ اس سے کچھ مختلف نہیں۔ٹک ٹاک پر لمحاتی شہرت، انسٹاگرام پر مصنوعی زندگی اور یوٹیوب پر ’’ٹرینڈ‘‘ بننے کی دوڑ —ان سب نے سوچنے کے زاویے بدل دیے ہیں۔اب بات "کیا کہنا ہے" سے زیادہ "کیا دکھانا ہے" پر آ گئی ہے۔
گفتگو کی جگہ ’’کیپشن‘‘،احساس کی جگہ ’’ایموجی‘‘اور مطالعے کی جگہ ’’ریلز‘‘ نے لے لی ہے۔یہ وہ نسل ہے جو ’’سوچنے‘‘ کے بجائے ’’اسکرول‘‘ کرتی ہے،اور ’’دوست‘‘ ڈھونڈنے کے بجائے ’’فالوورز‘‘ گنتی ہے۔سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو قریب کیا،وہیں اخلاقی فاصلوں کو بڑھا دیا۔فحاشی، جھوٹ، اور خودنمائی کے سیلاب نیاخلاقی بنیادیں ہلا دی ہیں۔گھر میں گفتگو ختم،خاندان میں قربت ختم،اور دوستی میں اخلاص ختم ہوتا جا رہا ہے۔معاشرہ ایک خاموش زوال کا شکار ہے —جس میں چہروں پر روشنی ہے مگر دل خالی ہیں۔ لوگ بھری محفل میں بھی اکیلے ہیں ، قریب بیٹھا شناسا انسان دور ہے اور میلوں کی مسافت پر رہنے والے انجان لوگ اس کے قریب ، یہ کیسی خود فریبی ہے ؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب، جہاں سے یہ ایپس پیدا ہوئیں،اب اپنے بچوں کے لیے ’’ڈیجیٹل حد بندیاں‘‘ مقرر کر رہا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، جاپان اور فرانس میںسکولوں میں ’’سکرین ٹائم ایتھکس‘‘ پڑھائی جا رہی ہے۔بچوں کو بتایا جا رہا ہے کہ موبائل ایک آلہ ہے، زندگی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ والدین بچوں کو موبائل ’’چپ کرانے‘‘ کے لیے نہیں، ’’سکھانے‘‘ کے لیے دیں۔
ان کے ساتھ وقت گزاریں، کہانیاں سنائیں، کھیل کھیلیں۔گھر میں ’’سکرین فری گھنٹہ‘‘ مقرر کریں، جہاں سب افراد صرف ایک دوسرے سے بات کریں۔ اساتذہ طلبہ کو ’’ڈیجیٹل شعور‘‘ دیں — کہ موبائل کیسے مفید بن سکتا ہے۔مطالعہ، تخلیق، اور حقیقی مکالمے کی عادت ڈالیں۔ایسے منصوبے بنائیں جن میں طلبہ موبائل کو علم یا معاشرتی خدمت کے لیے۔میڈیا اشتہارات، ڈراموں اور آن لائن مواد میں
اخلاقی معیار کی پاسداری لازمی قرار دی جائے۔تعلیمی نصاب میں ’’ڈیجیٹل اخلاقیات‘‘ شامل کی جائیں۔مثبت اور مفید سوشل میڈیا مہمات کو فروغ دیا جائے۔ آج ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاںموبائل فون ہماری نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے۔یہ چاہیں تو علم، آگہی اور ترقی کا دروازہ کھول سکتا ہے اور اگر چاہیں تو ہمیں تنہائی، اضطراب اور زوال کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ‘ہم موبائل کو اپنا خادم بناتے ہیں،یا خود اس کے غلام بنتے ہیں۔اللہ ہمیں فہم، توازن اور رہنمائی عطا فرمائے‘ ہم اپنی نئی نسل کو ٹیکنالوجی کے نور میں پروان چڑھائیں،نہ کہ اس کی آگ میں جلا ڈالیں۔