محمد نعیم قریشی
اصل سوال یہ نہیں کہ قیدی کون ہے بلکہ یہ ہے کہ اصل قید کس چیز کا نام ہے۔ کیا واقعی وہ شخص قیدی ہے جسے جیل کی ایک کوٹھڑی میں بند رکھا گیا ہے یا وہ لوگ قید میں ہیں جو پوری ریاستی طاقت رکھنے کے باوجود خوف کی دیواروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں آج ایک شخصیت ہے جس کا نام لیے بغیر کوئی پریس کانفرنس مکمل نہیں ہوتی اور وہ ہے عمران خان، قیدی نمبر 804۔ وہ چاہے جیل میں بیٹھا ہو یا عدالتوں میں پیش ہو رہا ہو، اس کے نام کا اثر ایسا ہے کہ اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے لوگ بھی بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ جس شخص کو سیاسی مخالفین کمزور ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اسی کا نام وہ دن میں کئی بار دہراتے ہیں۔ کبھی اس کی اہلیہ پر الزامات لگاتے ہیں، کبھی اس کی بہنوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، کبھی اس کی کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنا دیتے ہیں۔ مگر وہ خود پھر بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔
اصل حیرت تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کر لیتے ہیں، جو ہر ریاستی ادارے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جو عملی طور پر اقتدار کے مالک بنے بیٹھے ہیں، وہ عمران خان کے تین لفظ بولنے یا کسی پرانی ویڈیو چلنے سے پریشان کیوں ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ واقعی درست سمت میں ہیں، اگر ان کے فیصلے بے داغ ہیں، اگر ان کی سیاست عوامی مفاد کی نمائندگی کرتی ہے تو پھر خوف کیسا۔ عوام کے سامنے جانے سے جھجک کیوں۔ ہجوم میں کھڑے ہونے سے گھبراہٹ کیوں۔ وہ لوگ آزاد گھوم رہے ہیں، مگر ان کے چہروں پر آزادی کی بجائے خوف کی لکیر زیادہ واضح ہے۔ دوسری طرف عمران خان قیدی نمبر 804 جیل کی دیواروں میں بیٹھ کر بھی ایک عجیب قسم کی آزادی رکھتا ہے، ایک ایسی آزادی جو انسانی جسم پر نہیں بلکہ سوچ اور نظریے پر ہوتی ہے۔
یہ خوف اس بات کا اعتراف ہے کہ ریاستی طاقت، میڈیا مہمات، عدالتوں کی کارروائیاں، مسلسل مقدمات اور کردار کشی کے باوجود عوام کی محبت ختم نہیں ہو رہی۔ جب بھی عمران خان کا نام لیا جاتا ہے، قیدی نمبر 804 کا ذکر آتا ہے تو ایک بے بسی سی یوں محسوس ہوتی ہے جیسے کسی نے طاقت ور حلقوں کی زبان پر سوالیہ نشان رکھ دیا ہو۔ وہ اسے ملک کی ہر خرابی کا ماسٹر مائنڈ کہتے ہیں مگر جب سزا دینے کی باری آتی ہے تو ڈر محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے بدل جاتے ہیں، دفعات تبدیل ہو جاتی ہیں، بیانیہ تبدیل ہو جاتا ہے مگر ایک چیز نہیں بدلتی: وہ ہے عوام کا فاصلہ اختیار کرنے والوں پر عدم اعتماد۔
دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ بڑے لیڈرز ہمیشہ ظلم کے سائے میں آزمائے جاتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا جب Robben Island کی جیل میں تھے تو وہاں کے ایک گارڈ نے بعد میں یہ اعتراف کیا کہ جب بھی ہم منڈیلا کی کوٹھڑی کے سامنے سے گزرتے تھے تو ہمیں خود اپنے اختیار پر شک ہونے لگتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے قیدی کی طرح نہیں دیکھا، بلکہ ایک ایسے آدمی کی طرح دیکھا جس کے دل میں خوف نہیں تھا اور یہی چیز ہمیں خوفزدہ کرتی تھی۔ یہ واقعہ مختصر ہے مگر پوری دنیا کی سیاسی نفسیات کو بیان کر دیتا ہے کہ اصل طاقت جسمانی آزادی نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہے۔
پاکستان کی سیاست میں آج وہی کیفیت ہے۔ عمران خان جسمانی طور پر قیدی ہے مگر سوچ کے اعتبار سے آزاد ترین شخص دکھائی دیتا ہے۔ وہ لوگوں کے بیانیے، بحثوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قیدی نمبر 804 کے بارے میں ہونے والی ہر پریس کانفرنس، ہر عدالت کی تاریخ، ہر حکومتی فیصلہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ایک شخصیت کو منظر سے ہٹانے کے باوجود سیاست کا مرکز وہی ہے۔ دوسری طرف جو لوگ آزاد ہیں، وہ عوام کے سامنے جانے سے ڈرتے ہیں۔ جلسوں میں بوکھلاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ سوالوں سے بچتے ہیں۔ اپنی طاقت پر اعتماد نہیں رکھتے۔ یہی اصل قید ہے۔
طاقتور لوگ سزا دینے سے بھی ڈرتے ہیں اور نہ دینے سے بھی۔ سزا دیں تو عوامی ردعمل کا خوف، سزا نہ دیں تو اپنی کمزوری کا پتہ چل جانے کا خطرہ۔ یہی وہ کیفیت ہے جس نے ریاستی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔ ہر نیا مقدمہ دراصل پرانے خوف کی شدت بڑھاتا ہے۔ ہر نیا الزام دراصل اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ موجودہ نظام اس ایک شخصیت سے محفوظ نہیں۔ ہر نیا بیانیہ ان کی بے چینی کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔
اصل آزادی دراصل وہ ہوتی ہے جب انسان اپنے نظریے پر کھڑا ہو۔ عوام اس کے ساتھ ہوں۔ چاہے وہ جیل میں ہو یا اقتدار میں۔ عمران خان قیدی نمبر 804 جیل میں بیٹھا ہے مگر اس کے خلاف چلنے والی ہر کارروائی اس کے اثر کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ وہ لوگ جو میڈیا کے سامنے دعوے کرتے ہیں، طاقت کی علامت بن کر کھڑے ہوتے ہیں، وہ باہر آزاد ہیں مگر اپنی کمزوری کے احساس کے قیدی ہیں۔ ان کے چہروں پر طاقت کا غرور کم اور خوف کی پرچھائیں زیادہ ہے۔
وقت بدل جائے گا، حکومتیں تبدیل ہو جائیں گی، مگر تاریخ ہمیشہ وہ سوال زندہ رکھتی ہے جس کا جواب کوئی نہیں چھپا سکتا: اصل قیدی کون تھا۔ وہ جو سلاخوں کے پیچھے بیٹھا تھا یا وہ جو باہر گھومتے ہوئے بھی ہر لمحہ خوف کے پنجے میں جکڑا ہوا تھا۔۔نوٹ۔آپ کالم نگارکے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اورو اٹس ا پ پر رائے دیں۔00923003508630
آرٹیکل۔ (مکالمہ) محمد نعیم