قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں، اور یہ اینٹیلجنس ایجنسیز کی ناکامی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اینٹیلجنس ایجنسیز اس وقت پی ٹی آئی کے پیچھے لگی ہوئی ہیں جبکہ پیکا ایکٹ کے ذریعے صحافیوں اور اپوزیشن جماعتوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پولیس گردی کے مسئلے کو ملک بھر میں بڑھتا ہوا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں پولیس کی زیادتیاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے بانی کے ساتھ وکلاء کی ملاقاتوں پر پابندیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان ملاقاتوں کو روک دیا گیا ہے۔عمر ایوب نے پاکستان میں رول آف لاء کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات لیبیا جیسے ہیں، لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، اور 29 ارب ڈالر ملک سے باہر جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانا غیر آئینی ہے، اور وہ سویلین عدالتوں میں مقدمات کے حق میں ہیں۔انہوں نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر 26ویں آئینی ترمیم واپس لے لی جائے گی۔ عمر ایوب نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔بلوچستان میں حالات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں حکومت کی رٹ کمزور ہو چکی ہے اور لوگ آزادی کی آواز بلند کر سکتے ہیں، جو تشویشناک صورتحال ہے۔