قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "انسان ہو یا فرشتے، ہم ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات کی بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو پی ٹی آئی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرے گی۔عمر ایوب نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں حامد رضا، وہ خود اور سلمان اکرم راجہ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اپنے مطالبات کو منوانے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے پاکستان میں "مارشل لاء" کے نفاذ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ریاستی دہشت گردی سے نہتے عوام محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کو جس طرح دبانے کی کوشش کی ہے، وہ قابلِ مذمت ہے۔
اس موقع پر عمر ایوب نے مزید کہا کہ ان کی گاڑی اور اس میں موجود نقدی غائب ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے آئی جی اسلام آباد کے خلاف ہری پور تھانے میں درخواست دی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "آئی جی کے پی" اور "چیف سیکریٹری" کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور ان کی حکومت کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں۔عمر ایوب کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی جاری ہے، اور پی ٹی آئی کے رہنما حکومت کے خلاف احتجاج اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔