پردے کے مخالف جاوید اختر نے مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر شدید ردعمل دیا

پردے کے مخالف جاوید اختر نے مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر شدید ردعمل دیا

بھارتی  نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر کا ہے، جنہوں نے حالیہ واقعہ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی خاتون کے وقار، عزت اور احترام کو مجروح کرنے یا اس کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانا قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف اس عمل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ عمل کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ جاوید اختر کا موقف ہے کہ یہ صرف نظریات یا خیالات کی بات نہیں بلکہ خواتین کے عزت و وقار سے جُڑا ہوا حساس معاملہ ہے، جسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے رویے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس طرح کے اقدامات سے معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے مزید زور دیا کہ ایک عوامی عہدہ رکھنے والے شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خواتین سمیت ہر فرد کے ساتھ ذمہ داری، احترام اور شائستگی کا مظاہرہ کرے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے نہ صرف عوام میں مایوسی پھیلتی ہے بلکہ خواتین کے تحفظ اور عزت کے حوالے سے بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔جاوید اختر نے مطالبہ کیا کہ نتیش کمار متعلقہ خاتون سے غیر مشروط معافی مانگیں تاکہ ایک مثبت پیغام دیا جا سکے اور اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر کسی کی تضحیک یا دل آزاری کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔یہ بیان اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جاوید اختر، جو کہ اکثر متنازعہ خیالات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں، اس معاملے میں بھی اپنی رائے کا اظہار ذمہ داری اور احترام کے ساتھ کر رہے ہیں۔