پنجاب: پْرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے 5 سالہ جامع حکمتِ عملی کی تیاری

 لاہور(کرائم رپورٹر) پنجاب میں پْرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل 5 سالہ حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے تحت اس سلسلے میں دو روزہ سٹریٹجک پلاننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کی جبکہ ملک بھر سے پالیسی سازوں، سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے تحقیق پر مبنی، پالیسی پر مرکوز اور عملی اقدامات اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے CoE-CVE کے وڑن اور ادارہ جاتی فریم ورک سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔شرکاء￿  نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پْرتشدد انتہاپسندی کے خلاف محض ردِعمل کے بجائے انسدادی اقدامات، سماجی ہم آہنگی اور شمولیتی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا جاوید احمد ڈوگر نے قومی پالیسی برائے انسدادِ انتہاپسندی پر شرکاء￿  کو آگاہ کیا۔ورکشاپ کے دوران یو این او ڈی سی، پیمان ٹرسٹ اور دیگر اداروں کے ماہرین نے تکنیکی اور موضوعاتی سیشنز میں شرکت کی، جن میں نوجوانوں کی شمولیت، میڈیا کے کردار، ڈیجیٹل ریزیلینس، ری ہیبیلی ٹیشن اور ڈی ریڈیکلائزیشن سے متعلق قابلِ عمل سفارشات پیش کی گئیں۔