ہم امن کے خواہاں ہیں ،اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے‘افغان حکام دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں
ہم بے بس نہیں ،اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں‘ تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہوں عوام کی بہتری کیلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں:سال نو پر پیغام
اسلام آباد (یواین پی)صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے ہم امن کے خواہاں ہیں ،اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ، پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ، کسی بھی وجودی خطرے کا بھرپور قومی عزم اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی طاقت سے جواب دیا جائیگا، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور بشمول کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی وعدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے تیار ہے،افغان حکام دوحہ معاہدے کی پاسداری کریں اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،پاکستان پراکسی جنگوں ، انتہائی پسندی ، زینو فوبیا اور عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت جیسے چیلنجز سے محفوظ نہیں ،ہم بے بس بھی نہیں ہیں،اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں،تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے،سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں، ماحولیاتی مطابقت کو نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا،ہمیں ہر قسم کی انتہاپسندی کو مسترد کرنا ہوگا اور تشدد کی ہر صورت سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔بدھ کو سال نو 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہاکہ جیسے ہم سال 2026 اور رواں صدی کی دوسری چوتھائی میں داخل ہورہے ہیں، میں پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی برادری کو دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام دیتا ہوں‘۔انہوںنے کہاکہ ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جو جنگوں اور تنازعات، پراکسی جنگوں، انتہاپسندی، زینوفوبیا، عوامی جذبات پر مبنی فسطائیت، آبادی میں بے قابو اضافے، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی ہنگامی صورتحال، خوراک اور پانی کے عدم تحفظ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور شدید سماجی تقسیم سے عبارت ہے۔ پاکستان ان چیلنجز سے محفوظ نہیں لیکن ہم بے بس بھی نہیں ہیں۔ اتحاد، استقامت، تخلیقی صلاحیت اور یقین کے ساتھ ہم ان مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آجکل عالمی منظرنامہ افراطِ زر، سپلائی چین میں رکاوٹوں، قرضوں کے دباؤ، تجارتی جنگوں اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر مسابقت سے تشکیل پا رہا ہے، یہ صورتحال معاشی خودمختاری سے انکار کی بجائے نظم و ضبط، عوامی نعروں کے بجائے پیداواریت کو مہمیز دینے، بہانوں کی بجائے برآمدات اور اقربا پروری کے بجائے جامع ترقی کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ تعلیم، صحت، نوجوانوں، تخلیقی شعبوں، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری ہماری بقا اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔انہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہی بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ہے،سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور شدید گرمی معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا جمہوریت اختلافِ رائے میں پنپتی ہے مگر شائستگی اور ذمہ داری کے ساتھ،سیاسی اظہار کو ریاستی اداروں کو مضبوط بناناے میں معاون ہونا چاہیے، کمزور کرنا نہیں،میں تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام کی بہتری کیلئے پارلیمان میں تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوںنے کہاکہ کوئی بھی سیاسی مقصد دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا یا دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے درپے ہیں،یہ وقت ماحول میں شدت اور حرارت پیدا کرنے کا نہیں بلکہ روشنی پیدا کرنے کا ہے