فرخ ریاض بٹ
جذبہ ایمانی اور شہادت سے لیس افواج پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے جس کے تجربے، مہارت، جانفشانی دلیری اور قربانیوں کی نظیر نہیں ملتی۔پاک فوج قیامِ پاکستان سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کی حفاظت بھی کر رہی ہے۔ بارڈرز کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے اندرونی محاذوں پر بھی قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔جس دلیری سے پا ک فوج نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑی اس کی مثال دنیا میں ملنا ناممکن ہے۔ افواج پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت دہشت گردی ،انتہا پرستی اور شدت پسندی کا قلع قمع ہو رہا ہے اور حالات تیزی سے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔پوری قوم کے آرام و سکون کے لیے اپنی نیندیں قربان کر نے والے بہادر سپاہی بلاشبہ قابل فخر ہیں۔ہماری طویل ترین اور دشوار گزار نظریاتی سرحدوں کی بلا خوف و خطرحفاظت کرنے والے بری، بحری اور فضائی افواج کے جوان ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرین کی مدد کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے۔ صحت ، تعلیم ، شاہرات بنانے اور دیگر شعبہ جات میں بھی پاک فوج کی گراں قدر خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔قومی اثاثوں کی حفاظت ، امن و امان ، مردم شماری اور انتخابات وغیرہ پاک فوج کی شمولیت اور بے لوث مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ بلاشبہ کرپشن اور دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑے وطن عزیز میں اُمید کی واحد کرن پاک فوج ہی ہے۔ افواج پاکستان کے بہادر آفیسرز اور جوان اپنے خون سے پاکستان کی آبیاری کر رہے ہیں ۔
ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ پاک فوج بدامنی سے دوچار خطوں میں بھی امن و امان کی بحالی کے لیے پیش پیش رہتی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے دستے فراہم کرنے والی افواج میں پاکستانی فوج کا دنیا بھر میں تیسرا نمبر ہے۔جبکہ بہترین کارکردگی کی بنا پر پاکستانی فوج نے اقوام متحدہ کے سب سے زیادہ میڈلز حاصل کئے ہیں۔ پاک فوج افرادی قوت کے لحاظ سے بھی دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے جس کی وجہ سے پاک فوج کی ضروریات بھی زیادہ ہیں۔ پاک فوج کے دفاعی بجٹ کو پورا کرنا اس کے وقار اور مقام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔پاک فوج محدود وسائل کے باوجود اپنی کارکردگی میں اتنی آگے ہے کہ نہ صرف اہل پاکستان بلکہ پوری دنیا اس پر فخر کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے بین الاقوامی برادری کے 103 امن دستوں میں پاکستان سے ایف سی، رینجرز، پولیس، افسران، مرد اور خواتین اہلکاروںپر مشتمل دستہ بھی شامل ہے۔ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے پہلی مرتبہ خواتین کی ٹیم بھیجنے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ پاکستانی خواتین ٹیم جمہوریہ کانگو (مونسوکو) میں قیام امن مشن میں خدمات انجام دینے پر اقوام متحدہ سے میڈل بھی حاصل کرچکی ہے۔ پاکستان کے امن دستے ہیٹی، لائبیریا، صحارا، وسطی افریقہ، سوڈان، نیوگینی، نمیبیا، کمبوڈیا، صومالیہ، روانڈا، سری لیون اور بوسنیا میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ اس وقت 4 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی، پولیس افسران و دیگر اہلکار کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ، جنوبی سوڈان، صومالیہ، مغربی صحارا، مالی اور قبرص میں امن کے قیام کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے 46 امن مشنز میں حصہ لے چکا ہے۔پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں اپنی افواج کے ذریعے سب سے زیادہ تعاون کرنے والا ملک ہے۔پاک فوج دنیامیں نمایاں مقام رکھتی ہے، ایمان، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ اس کاطرہ امتیاز ہے، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہے۔ دفاع وطن کو اپنی جان سے مقدم رکھنا پاک فوج کا عزم ہے، شہداء کی قربانیاں، غازیوں کے کارنامے قابل تقلید مثالیں ہیں، شہدا کے خون سے آزادی کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ شہدا کا تقدس اور احترام پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔